24 ستمبر 2025 کو اسلام آباد میں سرینا ہوٹل میں منعقدہ آٹھویں پاکستان دوا ساز سمٹ میں وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک ہوئے اور سمٹ کے ساتھ ساتھ دوائیوں کی برآمدی انعامات کی تقریب سے خطاب کیا۔ اس موقع پر ہارون اختر خان نے صنعتی پالیسیوں اور ریگولیٹری اصلاحات کو ملک کی اقتصادی ترقی کی بنیاد قرار دیا اور کہا کہ ان اقدامات کے ذریعے ہی دوا ساز صنعت مضبوط ہو کر آگے بڑھ سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ دوا ساز صنعت پاکستان کے 25 کروڑ عوام کی صحت و بہبود میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے اور اسی بنا پر حکومت کا اہم ہدف ہے کہ معیاری اور سستی ادویات ہر سطح پر دستیاب ہوں۔ ہارون اختر خان نے حکومت کی طرف سے صنعت کو مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ پالیسی سازی کا مقصد شعبے کو مسابقتی اور بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانا ہے۔دوائیوں کی برآمدی انعامات کی تقریب میں اوپر کے پچاس برآمد کنندگان کو ان کے کردار کی بنا پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ ہارون اختر خان نے برآمد کنندگان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ "دوا ساز صنعت کے برآمد کنندگان پاکستان کے سفیر ہیں جو ملک کا نام عالمِ بالا پر روشن کرتے ہیں۔” ان انعامات کو ملکی برآمدات میں اضافے اور معیار کے فروغ کے پیشِ نظر اہم قدم قرار دیا گیا۔دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی دوا ساز برآمدات امریکی ڈالر 457 ملین تک پہنچ گئی ہیں جو گزشتہ دو دہائیوں میں سب سے بڑی کامیابی ہے اور شعبے نے سالانہ بنیادوں پر 34 فیصد کی ریکارڈ نمو دکھائی ہے۔ ہارون اختر خان نے اس ترقی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت صنعت کی مسابقت بڑھانے اور عوام کے لیے معیاری ادویات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔سمٹ میں بین الاقوامی ماہرین کی شرکت کو بھی اہم بتایا گیا اور ہارون اختر خان نے بین الاقوامی شراکت داری، عالمی بہترین طریقہ کار اور معیارات اپنانے پر زور دیا تاکہ پاکستان کی دوا ساز صنعت عالمی مقابلے میں بہتر پوزیشن حاصل کر سکے۔ انہوں نے فاتحین کو مبارکباد دی اور کہا کہ یہ کامیابیاں ملک کا مثبت امیج عالمی سطح پر پیش کرتی ہیں اور آگے بڑھنے کے مواقع پیدا کرتی ہیں۔
