کیوکشن کراٹے میں پاکستان کی تاریخی کامیابی، 3 گولڈ اور 3 سلور میڈلز اپنے نام کر لیے
اسلام آباد: دنیا کے طاقتور ترین مارشل آرٹس مقابلوں میں شمار ہونے والی انٹرنیشنل کیوکشن کراٹے چیمپئن شپ میں پاکستان نے تاریخ رقم کر دی۔ پاکستانی ٹیم نے پہلی مرتبہ 3 گولڈ میڈلز، 3 سلور میڈلز اور بہترین ریفری و جج کے 2 اعزازات حاصل کر کے ملک کا نام روشن کر دیا۔ وطن واپسی پر قومی ہیروز کا شاندار استقبال کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق ازبکستان میں منعقدہ دو روزہ کامن ویلتھ انٹرنیشنل کیوکشن کراٹے چیمپئن شپ میں 40 سے زائد ممالک نے شرکت کی۔ پاکستان کی جانب سے پانچ رکنی ٹیم نے حصہ لیا، جس میں ایک آفیشل شیہان بابر سہیل بھٹی، دو خواتین کھلاڑی لائبہ ربنواز جنجوعہ اور ایشا ارم، جبکہ مرد کھلاڑیوں میں سینسی علی حسن اور عبداللہ شامل تھے۔
راجاز مارشل آرٹس و سو کیوکشن ٹیم پاکستان نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 3 گولڈ اور 3 سلور میڈلز جیتے، جبکہ دو پاکستانی آفیشلز نے بہترین ریفری اور جج کے اعزازات بھی اپنے نام کیے۔ یہ کیوکشن کراٹے کی تاریخ میں پاکستان کی پہلی اور بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔
کیوکشن کراٹے دنیا کا ایک مضبوط اور سخت مارشل آرٹ کھیل سمجھا جاتا ہے، جس میں پہلی مرتبہ دو پاکستانی خواتین کھلاڑیوں کا گولڈ میڈل جیتنا قومی سطح پر باعثِ فخر ہے۔ پاکستانی کھلاڑیوں نے غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی پرچم بلند کیا۔
واضح رہے کہ یہی ٹیم اس سے قبل ایران میں ہونے والی ایشین کیوکشن کراٹے چیمپئن شپ میں بھی تیسری پوزیشن حاصل کر چکی ہے، جو پاکستانی مارشل آرٹس کے ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کا ثبوت ہے۔
کھلاڑیوں اور منتظمین نے اس موقع پر شکوہ کیا کہ سپانسرز کی عدم دستیابی اور حکومتی سرپرستی نہ ہونے کے باعث کئی باصلاحیت کھلاڑی بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اپنی مدد آپ کے تحت محدود وسائل میں مقابلوں میں شرکت کرنا ہر کھلاڑی کے لیے ممکن نہیں۔
مارشل آرٹس برادری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جس طرح کرکٹ اور دیگر کھیلوں کو سرپرستی فراہم کی جاتی ہے، اسی طرح مارشل آرٹس کو بھی سرکاری سرپرستی دی جائے تاکہ پاکستانی کھلاڑی عالمی سطح پر ملک کا نام مزید روشن کر سکیں۔
