تزئین اختر
اسلام آباد : پاکستان اور جاپان کے درمیان 74 سالہ سفارتی تعلقات کے تناظر میں مستقبل کے تعاون کا روڈ میپ جاپان کے سفیر عزت مآب آکامَتسو شوئیچی نے پاکستانی میڈیا سے گفتگو کے دوران پیش کیا۔ یہ ملاقات 6 فروری 2026 کو سفیرِ جاپان کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات کے معاشی، سماجی، انسانی اور ثقافتی پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
سفیرِ جاپان نے گفتگو کے آغاز میں اسلام آباد کے مضافاتی علاقے میں ایک مسجد میں ہونے والے دھماکے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ اس موقع پر جاپانی سفارتخانے کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افسران بھی موجود تھے۔
سفیر نے بتایا کہ پاکستان اور جاپان کے درمیان سفارتی تعلقات 1952 میں قائم ہوئے، جس کے بعد دونوں ممالک کے رہنماؤں کے باہمی دوروں کے ذریعے معاشی تعاون اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جاپان پاکستان کا بڑا تجارتی شراکت دار ہے تاہم تعلقات صرف تجارت تک محدود نہیں بلکہ عوامی روابط، ثقافت اور انسانی ترقی بھی اس کا اہم حصہ ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں 80 سے زائد جاپانی کمپنیاں مختلف شعبوں میں کام کر رہی ہیں جو ایک لاکھ سے زائد افراد کو روزگار فراہم کر رہی ہیں، جبکہ جاپان میں مقیم پاکستانیوں کی تعداد 26 ہزار سے زائد ہے، جن میں بڑی تعداد طلبہ کی ہے۔ جاپانی وزارتِ خارجہ کے مطابق 2023 میں پاکستان سے جاپان کو برآمدات 33.7 ارب ین جبکہ جاپان سے درآمدات 146.9 ارب ین رہیں۔
سفیرِ جاپان نے کہا کہ جاپان نے 2023 تک پاکستان کو 817.48 ارب ین کے قرضے، 307.59 ارب ین کی گرانٹس اور 67.05 ارب ین کی تکنیکی معاونت فراہم کی۔ انہوں نے 2026 اور اس کے بعد کے لیے معاشی وسعت، ٹیکنالوجی تعاون اور اوساکا-کانسائی ایکسپو 2025 کی وراثت کو آگے بڑھانے کے ایجنڈے کا اعلان کیا۔
اپنی تقریر میں سفیر نے پاکستان کے مختلف علاقوں—پنجاب، سندھ، موہنجوداڑو، ٹیکسلا اور شمالی علاقہ جات—کے دوروں کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان کی ثقافتی ورثے اور عوام کی مہمان نوازی کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام کا جاپان پر اعتماد اور محبت 74 سالہ تعلقات، جاپانی امداد، کمپنیوں کی موجودگی اور جاپانی مصنوعات پر اعتماد کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے دوطرفہ تعلقات کے مستقبل کے لیے عوامی روابط (P2P)، معاشی تعلقات کے فروغ اور جاپانی کھانوں کے تعارف کو اپنی ترجیحات قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی نوجوانوں میں جاپان کے حوالے سے دلچسپی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ایک ہزار سے زائد امیدوار حالیہ جاپانی زبان کے امتحانات میں شریک ہوئے۔
سفیر نے مصنوعی ذہانت (AI) اور آئی ٹی کے شعبے میں تعاون پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کا آئی ٹی سیکٹر تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور جاپانی کمپنیاں پاکستانی ماہرین سے روابط بڑھا رہی ہیں۔ انہوں نے 10 فروری کو ہونے والے جاپان-پاکستان بزنس سیمینار کا بھی اعلان کیا۔
انہوں نے اوساکا-کانسائی ایکسپو 2025 میں پاکستان پویلین کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس نے نمائش ڈیزائن میں برانز ایوارڈ حاصل کیا اور 18 لاکھ سے زائد افراد نے اس کا دورہ کیا، جس سے جاپانی عوام میں پاکستان کے لیے قربت کا نیا احساس پیدا ہوا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر یاسر ایاز، چیئرمین نیشنل سینٹر آف آرٹیفیشل انٹیلیجنس (NCAI) اور نسٹ کے روبوٹکس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ نے جاپان کے اعتماد، معیار اور نظم و ضبط پر مبنی نظام کو سراہا۔ انہوں نے جاپانی جامعات اور اداروں کے ساتھ جاری اے آئی منصوبوں اور سکیورٹی کے شعبے میں ان کی افادیت پر بھی روشنی ڈالی۔
آخر میں راقم نے جاپانی سفیر کو ہائیکو اور اکیبانا کی مشترکہ تقریبات منعقد کرنے کی تجویز دی اور دوطرفہ تعلقات پر منعقد ہونے والے فورمز میں شرکت کی دعوت دی۔
Read in English: Japan Pakistan Relations Roadmap for 2026
