سید یوسف رضا گیلانی نے اسلام آباد میں منعقدہ ظہرانے کے موقع پر پاکستانی اور اٹلی کے درمیان گرمجوش اور تعمیری تعلقات کی برجستگی پر زور دیا اور بتایا کہ یہ رشتہ باہمی احترام اور مسلسل تعاون پر مبنی ہے۔ اس موقع پر میزبان سینیٹر سرمد علی کی جانب سے اٹلی کی سفیر کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا جب کہ گفتگو کا محور باہمی سیاسی و اقتصادی روابط رہا۔چیئرمین سینیٹ نے واضح کیا کہ اٹلی یورپی یونین میں پاکستان کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے اور اقتصادی رابطوں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ تجارت، سرمایہ کاری اور سیاسی ہم آہنگی کو فروغ ملے۔ پاکستان اٹلی تعلقات کو معاشی و سفارتی دونوں سطحوں پر فروغ دینے کا عندیہ دیا گیا۔انہوں نے پاکستانی مہاجرین اور مقیم برادری کے کردار کو خاص طور پر سراہا اور کہا کہ بیرونِ ملک پاکستانی کمیونٹی دونوں ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہی ہے، جس سے تجارتی اور ثقافتی روابط کو تقویت ملتی ہے۔ اس تناظر میں پارلیمانی سطح پر جاری تبادلے اہمیت اختیار کرتے ہیں۔ماریلینا آرمیلن نے پارلیمانی فرینڈشپ گروپوں کے کام کی تعریف کی اور اٹلی کی پارلیمنٹ میں موجود ہمدرد گروپ کی طرف سے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے بتایا کہ اٹلی کی پارلیمانی قیادت کی جانب سے جلد دورے کی امید ہے اور ان کی خوشی کا اظہار کیا گیا کہ گزشتہ سال سینیٹ کی قیادت اور وفود دو مرتبہ اٹلی کا دورہ کر چکے ہیں، جن کے باہمی تبادلے آئندہ بھی جاری رہیں گے۔سینیٹر سرمد علی نے سفیر کے تعاون کا شکریہ ادا کیا اور پارلیمانی روابط کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل پارلیمانی تبادلے پارلیمانی سفارت کاری کو مضبوط کریں گے اور پاکستان اٹلی تعلقات کو دیرپا بنیاد فراہم کریں گے۔تقریب میں وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر ترار، وزیرِ مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک، رکنِ قومی اسمبلی سید نوید قمر، سینیٹر شہادت اعوان اور مشیرِ چیئرمین سینیٹ و سفیرِ آئی ایس سی مصباح کھار سمیت دیگر نمایاں شخصیات نے شرکت کی اور تمام شرکاء نے پارلیمانی سفارت کاری کے ذریعے باہمی اعتماد اور تعاون کو مزید تقویت دینے پر اتفاق کیا۔
