وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے آئرلینڈ کی پہلی سفیر میری او نیل سے ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان پائیدار ترقی، قابلِ تجدید توانائی اور سبز اختراعات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ ملاقات میں بین الاقوامی فنڈز تک رسائی، نوجوان قیادت میں گرین اسٹارٹ اپس کی حمایت اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی مشترکہ حکمتِ عملی بھی زیرِ بحث آئی۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے موسمیاتی تبدیلی کے عالمی چیلنجز اور ترقی پذیر ممالک کو درپیش مشکلات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ دنیا کثیرالجہتی سے دوطرفہ اور یکطرفہ اقدامات کی طرف بڑھ رہی ہے اور ترقی پذیر ممالک کے لیے خودانحصاری کا حصول ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری کی ماحولیاتی اہداف کے حصول میں ناکامی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
وزارتِ موسمیاتی تبدیلی نے بتایا کہ بین الاقوامی ماحولیاتی فنڈز تک مؤثر رسائی کے لیے ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنایا جائے گا تاکہ پاکستان اپنے کلائمیٹ ایکشن منصوبوں کے لیے بہتر مالی معاونت حاصل کر سکے۔ اس ضمن میں تکنیکی معاونت، پراجیکٹ ڈیزائن اور شفافیت کے معیار کو بہتر بنانے کے اقدامات پر زور دیا گیا۔
نوجوانوں کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ نوجوان قیادت میں سبز اسٹارٹ اپس کی معاونت کے لیے خصوصی پالیسی اقدامات کیے جائیں گے۔ وزارت نے اعلان کیا کہ ماحول دوست اختراعات اور پائیدار ترقی کے لیے نوجوانوں کو بااختیار بنایا جائے گا تاکہ مقامی سطح پر گرین انٹرپرینیورشپ کو فروغ ملے۔
آئرلینڈ کی سفیر نے قابلِ تجدید توانائی اور سبز اختراعات کے میدان میں تعاون بڑھانے کی خواہش ظاہر کی اور پاکستان کے ساتھ تکنیکی تعاون، تربیتی پروگرامز اور ممکنہ سرمایہ کاری کے مواقع پر بات چیت کی۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقوں نے پائیدار ترقی اور گرین پراجیکٹس کے فروغ کے لیے بہتر شراکت داری برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
