پاکستان ہاکی فیڈریشن نے اصلاحاتی ایجنڈا جاری کیا

newsdesk
5 Min Read
پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ادارہ جاتی شفافیت، اعداد و شمار پر مبنی ٹیلنٹ تلاش اور پیشہ ورانہ انتظام پر مبنی اسٹریٹجک ایجنڈا جاری کر دیا۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کا قومی کھیل کی بحالی کے لیے انقلابی ’اسٹریٹجک ریفارم ایجنڈا‘ کا اعلان

پاکستان ہاکی فیڈریشن نے اپنی ایڈہاک کمیٹی کے پہلے اجلاس کے بعد ہاکی کی بحالی کے لیے ایک جامع اور پرعزم ’اسٹریٹجک ریفارم ایجنڈا‘ جاری کر دیا ہے۔ اس نئے روڈ میپ کا مقصد نچلی سطح (گراس روٹ) سے لے کر ایلیٹ لیول تک ہاکی میں نئی روح پھونکنا ہے۔ اس منصوبے کے تین بنیادی ستون ادارہ جاتی شفافیت، ڈیٹا پر مبنی ٹیلنٹ کی تلاش، اور فیڈریشن کی پیشہ ورانہ مینجمنٹ ہیں۔اجلاس پی ایچ ایف صدر محی الدین وانی کی سربراہی میں ہوا۔ جس میں پی ایچ ایف ایڈھاک کمیٹی چیئرمین اولمپین اصلاح الدین صدیقی ،اولمپین حسن سردار، خان ،برطانیہ میں مقیم پاکستانی ہائی کمشنر ڈاکٹر فیصل، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر سردار یاسر الیاس، چیئرمین ہائیر ایجوکیشن ڈاکٹر نیاز ، چیئرمین انٹر بورڈ کمیٹی غلام عباس ملاح ،چیف کلکٹر کسٹم مقصود عباسی، چیئرمین فیڈرل بورڈ ڈاکٹر اکرم ، چیف مارکیٹنگ آفیسر پی ٹی سی ایل سیف، ،چیف آپریٹنگ آفیسر جاز سید علی نصیر ،شفا کے کوآرڈینیٹر محمد مبین ، شریک تھے۔

آج پاکستان ہاکی کے لیے ایک اہم دن ہے۔ ہم عارضی حل کے بجائے ایک طویل مدتی حکمت عملی پر عمل درآمد کر رہے ہیں تاکہ ایک ایسا نظام بنایا جائے جو خود مختار، شفاف اور عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل ہو۔ اجلاس میں بین الاقوامی سطح پر ٹیموں کے دورے اور اس دوران جدید ہاکی کو استوار کرنے کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال ہوا۔

گورننس میں اصلاحات اور شفاف انتخابات
ایجنڈے کا سب سے اہم حصہ پی ایچ ایف میں جمہوری نظام اور شفافیت کا قیام ہے۔ کمیٹی نے 90 روزہ روڈ میپ کی منظوری دی ہے جس کے تحت ملک بھر میں ہاکی کلبوں کی سخت جانچ پڑتال (اسکروٹنی) کی جائے گی۔

قانونی ماہرین، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس اور اسپورٹس گورننس کے ماہرین پر مشتمل پینل کلبوں کی مالی شفافیت اور سرگرمیوں کا جائزہ لے گا۔
اس عمل کے بعد تصدیق شدہ ووٹرز کی فہرست عوامی سطح پر جاری کی جائے گی، تاکہ 6 سے 9 ماہ کے اندر غیر جانبدارانہ نگرانی میں منصفانہ انتخابات کرائے جا سکیں۔

قومی ٹیلنٹ کی تلاش (تعلیمی اداروں کے ساتھ شراکت)
ہاکی کے کھلاڑیوں کی نئی کھیپ تیار کرنے کے لیے ملک گیر ‘ٹیلنٹ ہنٹ’ شروع کیا جا رہا ہے:
انڈر-14 اور انڈر-16 ٹرائلز: فیڈرل بورڈ (FBISE) اور آئی بی سی سی (IBCC) کے تعاون سے اسکول کی سطح پر ٹرائلز ہوں گے، جہاں ڈیجیٹل پروفائلنگ کے ذریعے کھلاڑیوں کی کارکردگی جانچی جائے گی۔

انڈر-21 یونیورسٹی چیمپئن شپ: ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) ایک پریمیئر انٹر یونیورسٹی چیمپئن شپ کی سرپرستی کرے گا، جو جونیئر نیشنل ٹیم کے لیے کھلاڑی فراہم کرے گی۔

کارپوریٹ پارٹنرشپ اور مالی استحکام
مالی طور پر فیڈریشن کو مستحکم بنانے کے لیے بڑے معاہدے کیے گئے ہیں:
پی ٹی سی ایل کے ساتھ 3 سالہ "کارپوریٹ ریوائیول پارٹنرشپ” کی گئی ہے جس کے تحت "پی ٹی سی ایل نیشنل ہاکی لیگ” کا انعقاد کیا جائے گا۔
جاز (Jazz) مداحوں کے تجربے کو جدید بنانے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز میں تعاون کرے گا۔

انفراسٹرکچر کی بحالی اور محکمانہ ہاکی
برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر ڈاکٹر فیصل کی کوششوں سے ہالینڈ اور آسٹریلیا سے استعمال شدہ ‘ایسٹرو ٹرف’ حاصل کی جائے گی جو پسماندہ اضلاع میں لگائی جائے گی۔

پاکستان کسٹمز کراچی اور لاہور میں نئی ٹیمیں تشکیل دے کر محکمانہ ہاکی کو بحال کرے گا۔ کھلاڑیوں کی صحت کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال طبی خدمات فراہم کرے گا۔
پیشہ ورانہ ڈھانچہ اور عظیم کھلاڑیوں کی شمولیت
فیڈریشن کو چھ پیشہ ورانہ شعبوں (ایچ آر، فنانس، مارکیٹنگ، اسپورٹس میڈیسن، ہائی پرفارمنس، اور انٹرنیشنل لائزن) میں تقسیم کیا جائے گا۔ ٹیم مینجمنٹ کی نگرانی ہاکی لیجنڈز اصلاح الدین صدیقی، حسن سردار اور سمیع اللہ کریں گے۔ ان کا ہدف 24 ماہ میں پاکستان کو ٹاپ 10 عالمی رینکنگ میں لانا، ایشین گیمز میڈل اور اولمپک کوالیفیکیشن کو یقینی بنانا ہے۔
120 روزہ ہنگامی ایکشن پلان
پی ایچ ایف نے فوری عمل درآمد کے لیے 120 روزہ پلان لانچ کر دیا ہے جس میں:
کلبوں کی اسکروٹنی اور آڈٹ کا آغاز۔
ایچ ای سی اور فیڈرل بورڈ کے ساتھ معاہدوں پر عمل۔
انٹرنیشنل کوچ کی تعیناتی کے لیے شارٹ لسٹنگ۔
الیکٹورل کالج کی تصدیق شامل ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے