پاکستان ہاکی کے لیے اصلاحی اقدام

newsdesk
5 Min Read
سابق اولمپئن اور حکام نے پی ایچ ایف میں بدانتظامی کے خلاف وزیر اعظم کی کارروائی کا خیرمقدم کیا اور شفاف تفتیش اور رقوم کی بازیابی کا مطالبہ کیا

کراچی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں سابق اولمپئن، وفاقی نمائندے اور کراچی ہاکی ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے پی ایچ ایف میں طویل عرصے سے جاری بدانتظامی اور کرپشن کے خلاف احتجاجی موقف اختیار کیا۔ حاضرین نے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے پی ایچ ایف کے صدر طارق بوگٹی اور بطور سیکرٹری جنرل رانا مجاہد علی کی مستعفیٰ قبولیت کو ایک ضروری اصلاحی قدم قرار دیا۔کانفرنس کی قیادت کرنے والی رکن قومی اسمبلی و قائمہ کمیٹی کھیل کی رکن سیدہ شہلا رضا نے کہا کہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی، جن لوگوں نے پی ایچ ایف کے وسائل کو لوٹا انہیں جوابدہ بنایا جائے اور ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ڈالے جائیں تاکہ رقوم کی بازیابی ممکن ہو سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ مقصد عہدے نہیں بلکہ پاکستان ہاکی کی بحالی ہے۔سیدہ شہلا رضا نے پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے سیکرٹری کے کردار پر تنقید کی اور کہا کہ تحقیقات کا دائرہ سن ۲۰۰۸ سے لے کر موجودہ دور تک پھیلایا جائے تاکہ ۱۱۳ شقوں پر مشتمل مالیاتی ریکارڈ کا تفصیلی آڈٹ ممکن ہو۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک سو پچاس کروڑ روپے تک کی کرپشن میں سابق صدور اور سیکریٹریز ملوث ہیں۔سابق اولمپئن کلیم اللہ، سمیا اللہ، حنیف خان، نصیر علی، ایاز محمود، وسیم فیروز اور دیگر کھلاڑیوں نے بھی بدانتظامی پر سخت الفاظ میں سوال اٹھائے۔ سمیا اللہ نے موقف دیا کہ میرٹ پر مبنی ورکنگ ٹیم پی ایچ ایف کی بحالی میں مدد کر سکتی ہے جبکہ حنیف خان نے استفسار کیا کہ اگر بدعنوان سیاستدانوں کو سزا مل سکتی ہے تو ہاکی کے فنڈز میں ملوث افراد کا نصیب کیوں مختلف ہونا چاہیے۔بین الاقوامی ہاکی کے معاملات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نصیر علی نے کہا کہ بین الاقوامی فورم پر مسائل نے پاکستان ہاکی کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ سابق سیکرٹری پی ایچ ایف حیدر حسین نے الزام لگایا کہ گزشتہ دو سال کے دوران فیڈریشن کی سرگرمیوں میں انسانی اسمگلنگ کی بھی اطلاعات ہیں اور ان کا مطالبہ تھا کہ قومی ٹیم کے بیرون ملک دوروں کی مکمل جانچ کی جائے۔ محمد نعیم نے آسٹریلیا میں قومی ٹیم کے ساتھ بدسلوکی کی نشاندہی کی اور بتایا کہ ان واقعات کی غیر ملکی میڈیا، خاص طور پر بھارتی ذرائع میں کوریج قومی حیثیت کے لیے باعثِ شرمندگی بنی۔ انہوں نے کہا کہ غلط انتظامی پالیسیوں کے سبب ملک میں فعال ہاکی کلبوں کی تعداد محض سو کے قریب رہ گئی ہے جو پاکستان ہاکی کے زوال کی علامت ہے۔شرکاء نے بین الاقوامی ہاکی فیڈریشن کے صدر طیب اکرم پر بھی تنقید کی کہ انہوں نے اپنی پوزیشن کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا، ہوٹل اور خوراک کے معاہدات میں غیر شفاف کنٹرول کی شکایات سامنے آئیں۔ سابق سیکرٹری حیدر حسین نے اس بات پر زور دیا کہ وزیراعظم فوری طور پر تمام غیر ملکی دوروں کی تفصیلات اور متعلقہ معاہدات کی تحقیقات کروائیں۔پریس کانفرنس میں پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے سیکرٹری خالد محمود کی بھی نشاندہی کی گئی اور ان پر برسوں سے کھیلوں کے اداروں میں مداخلت اور متوازی وفاقی ڈھانچے بنانے کے الزامات عائد کیے گئے۔ شرکاء نے کہا کہ رانا مجاہد علی نے محدود انتظامی اختیارات کے باوجود مکمل سیکرٹری جنرل کے فرائض بلاجواز سنبھالے اور اس طرح غیر آئینی عمل کو فروغ ملا۔موجودہ مطالبات میں شفاف، قانونی اور جامع تفتیش کا آغاز، جن مشتبہ افراد کے خلاف انکوائری ہو انہیں ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر فوری طور پر ڈالنا، گوشوارہ جات اور معاہدات کا مکمل آڈٹ اور سابق عہدیداروں کے خلاف رقوم کی بازیابی شامل ہیں۔ اولمپئنز نے واضح کیا کہ ان کی کوششیں ذاتی مفادات کے لیے نہیں بلکہ پاکستان ہاکی کی بحالی کے لیے ہیں اور انہوں نے درخواست کی کہ وزیر اعظم ایک ماہرین اور سابق کھلاڑیوں پر مشتمل ورکنگ کمیٹی تشکیل دیں جو فیڈریشن کے ڈھانچے کو دوبارہ ترتیب دے سکے۔شرکاء نے کہا کہ اگر ان مطالبات پر عملدرآمد نہ ہوا تو ملک کے قومی کھیل کی حالت مزید بگڑ سکتی ہے، اس لیے فوری، شفاف اور ذمہ دارانہ اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان ہاکی دوبارہ بین الاقوامی معیار کے مطابق کھڑا کیا جا سکے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے