اسلام آباد، بیس نومبر دو ہزار پچیس۔ وزارتِ انسانی حقوق نے عالمی یومِ اطفال کے موقع پر ملک کے نمایاں یادگار مقام اور اہم عمارتیں نیلی روشنیوں سے منور کر کے بچوں کے حقوق کو اجاگر کیا۔ یونیسیف کے تعاون سے منعقدہ اس مہم کا مقصد عوامی سطح پر بچوں کے مسائل اور ان کے حقوق کی اہمیت کو پذیرائی دلوانا تھا، جب کہ صوبائی اسمبلیوں میں بچوں کو علامتی کردار دے کر وہ اپنی زندگی، امیدیں اور ضروریات بیان کر رہے تھے۔سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ عالمی یومِ اطفال بچوں کی امیدوں اور صلاحیتوں کا جشن ہے اور ہر بچے کو محفوظ، پرورش یافتہ اور خودمختار ماحول میں پرورش پانے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بچوں کی فلاح و بہبود میں ہر سطح پر اجتماعی ذمہ داری نبھائی جائے گی اور بچوں کو سننے کے عمل کو باقاعدہ لاگو کرنا لازمی ہے۔مہم کے تحت ملک بھر میں اٹھارہ اہم عمارتوں کو نیلی روشنیوں سے روشن کیا گیا، جو اس بات کی علامت ہیں کہ بچوں کے حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ صوبائی اسمبلیوں میں بچوں کو موقع دیا گیا کہ وہ اپنی آواز حکومت اور کمیونٹی تک پہنچائیں، جس سے بچوں کی شرکت اور نمائندگی کی اہمیت واضح ہوئی۔ بچوں کے حقوق کو مرکزی موضوع بنا کر یہ اقدام عوامی شعور میں اضافے کا سبب بنا۔تقویٰ احمد، نوجوان سرپرست برائے یونیسیف نے کہا کہ اکثر اوقات بچوں کی زندگی بالغوں کے فیصلوں سے متاثر ہوتی ہے اور بچوں کو اپنی خوشی، تعلیم اور حفاظت کے حوالے سے خود فیصلے کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی تبدیلی تب ممکن ہے جب قائدین بچوں کی بات سنیں اور انہیں لیڈرشپ کے مواقع دیے جائیں۔پرنیلے آیرن سائیڈ، نمائندہِ یونیسیف پاکستان نے کہا کہ پورا ملک نیلا کرنے والا یہ منظر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ بچوں کی نشوونما اور تحفظ پر مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ 18 سال سے کم عمر افراد ملک کی مجموعی آبادی کا ستتالیس فیصد ہیں، اس لیے ان میں سرمایہ کاری قومی ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اعلیٰ حکومتی فیصلوں سے لے کر گھریلو سطح تک مربوط کوششیں درکار ہیں۔وزارتِ انسانی حقوق اور یونیسیف کی اس مشترکہ مہم نے اس عزم کو دہرایا کہ بچے سننے، شامل کرنے اور محفوظ ماحول میں نشوونما پانے کے بنیادی حق کے حامل ہیں۔ معروضی انداز میں کی گئی یہ کوشش بچوں کے حقوق کے معاملے کو عوامی ایجنڈے میں برقرار رکھنے کی سمت ایک عملی قدم شمار کی جاتی ہے۔
