پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف عالمی دفاع نبھایا

newsdesk
5 Min Read
اسلام آباد میں سیمینار میں وزیراطلاعات نے دہشتگردی کے خلاف حکومتی عزم، سرحدی خطرات اور قومی ایکشن پلان پر وسیع گفتگو کی۔

اسلام آباد میں ادارہ برائے علاقائی مطالعہ کی جانب سے منعقدہ اعلیٰ سطحی سیمینار میں دہشتگردی کے پائیدار رجحان، قومی دفاع اور آئندہ حکمتِ عملی پر تبادلۂ خیال ہوا۔ اجلاس میں فوجی حکام، سٹریٹجک ماہرین، پالیسی ساز اور علمی حلقوں کے نمائندوں نے شرکت کی اور ملک میں جاری دہشتگردی کے چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔جناب اعطاؤاللہ ترار وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے حکومت کی دہشتگردی کے خاتمے کے عزم کو دو ٹوک انداز میں دہرایا اور کہا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر امن کے تحفظ کے لئے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے مسلح افواج کی قربانیوں کو سراہا اور کہا کہ پورا ملک دہشتگردی کے خاتمے کے لئے متحد ہے۔ وزیر نے اس امر پر زور دیا کہ بعض بیرونی قوتیں اور خطّے سے وابستہ عناصر دہشتگردوں کو معاونت فراہم کر رہے ہیں، لہٰذا قومی سطح پر مربوط نفاذِ قومی ایکشن پلان وقت کی ضرورت ہے۔سفیر جاوہر سلیم نے کہا کہ ملک میں دہشتگردی ایک سنگین خطرہ برقرار ہے اور اس سال سینکڑوں حملے رپورٹ ہوئے ہیں۔ انہوں نے بیرونی نیابت کاروں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے افغان طالبان کے وعدوں کی تکمیل میں ناکامی پر تشویش ظاہر کی۔ دوحہ کی مبینہ جنگ بندی اور استنبول مکالمے کے پیشِ نظر سفارتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان کو طے کرنا ہوگا کہ وہ دہشتگردی کی حمایت کرے گا یا پاکستان کے ساتھ امن اور تعاون کے راستے اختیار کرے گا، جو اس کی داخلی استحکام کے لئے ضروری ہے۔لیفٹیننٹ جنرل خالد ربانی (ریٹائرڈ) نے اس بات پر زور دیا کہ دہشتگردی کے خلاف کامیابی کے لئے پورے ملک کا مشترکہ عزم لازم ہے اور محض سیکورٹی فورسز اکیلے یہ جنگ نہیں جیت سکتیں۔ انہوں نے سیاسی اتفاق رائے، سماجی مزاحمت اور قومی یکجہتی کی ضرورت اجاگر کی اور کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی سلامتی باہم مربوط ہے اور ایک جانب عدم استحکام دوسرے کے امن کو متاثر کرتا ہے۔میجر جنرل (ریٹائرڈ) انعام الحق نے سرحدی حملوں میں تیزی کی خبردار کن تصویر پیش کی اور بتایا کہ اکتوبر ۲۰۲۵ تک افغان سرپرستی والے حملوں کی تعداد ۵۸۵ ریکارڈ ہوئی، جو ۲۰۲۴ میں ۵۲۱ اور ۲۰۲۳ میں ۳۰۶ تھی۔ انہوں نے اکتوبر کے ۱۱ تا ۱۵ تاریخ کے دوران افغان طالبان عناصر اور تحریکِ طالبان پاکستان کے معاونت یافتہ گروپس کی جانب سے سرحدی علاقوں میں بلا اشتعال کارروائیوں کی بات کی اور اس کو افغان حکومت اور پاکستان مخالف نیٹ ورکس کے مابین فعال ہمکاری قرار دیا۔ڈاکٹر محمد فیاض نے نشاندہی کی کہ ملک میں دہشتگردی کے سماجی و ریاستی اثرات پر تحقیقی شعور محدود ہے اور اس موضوع پر جامع علمی مطالعہ کم پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی سازوں اور علمی حلقوں کے مابین مضبوط روابط قائم کر کے دہشتگردی کی مستقل مزاجی کو سمجھنے کے لئے تحقیق کو بڑھایا جائے تاکہ پالیسیاں حقائق پر مبنی ہوں۔مسائل کے حل کے حوالے سے عبدالباسط، جو ایک غیر ملکی تحقیقی ادارے سے منسلک ہیں، نے کہا کہ اس منطقه میں جغرافیائی سیاسی تناظر، نظریاتی عوامل اور افغان حکمرانی کے مسائل دہشتگردی کے تسلسل کے بنیادی اسباب ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو اپنے مقابلۂ دہشتگردی کے فریم ورک میں اصلاحات کرنی چاہئیں اور عسکری اور غیر عسکری دونوں نوعیت کی تدابیر میں توازن برقرار رکھنا ہوگا تاکہ بدلتی ہوئی اور کثیرالجہتی خطرات کا مؤثر مقابلہ ممکن ہو سکے۔سیمینار میں شرکاء نے ایک بار پھر قومی سطح پر مربوط حکمتِ عملی، سیاسی اتفاقِ رائے اور سماجی جوشِ عمل کی ضرورت پر اتفاق کیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ دہشتگردی کے خلاف جامع کامیابی کے لئے حقیقی معنوں میں قومی ایکشن پلان کا یکساں اور مسلسل نفاذ ضروری ہے۔ شرکاء نے کہا کہ سفارتی کوششیں اور موثر آپریشنز دونوں ایک دوسرے کے تکمیل کنندہ ہیں اور خطّے میں دیرپا امن کے لئے باہمی اعتماد اور تعاون ناگزیر ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے