پاکستان میں ای آئی اے کا بحران اور اصلاحات کی ضرورت

4 Min Read

ماحولیاتی اثرات کی تشخیص صرف رسمی کارروائی بن چکی، عوام کا ای پی اے کی کارکردگی پر شدید ردِ عمل، اصلاحات اور ڈیجیٹل نظام کا مطالبہ

ندیم تنولی
پاکستان میں ماحولیاتی اثرات کی تشخیص (EIA) کے نظام پر ماہرین، سابق حکومتی افسران اور شہریوں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’’کاپی پیسٹ‘‘ رسمی کارروائی قرار دیا ہے، جس کا اصل مقصد ماحول کے تحفظ کے بجائے محض منصوبہ جات کو منظوری فراہم کرنا رہ گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ’’کمیونٹی فار انوائرمنٹ اینڈ کلائمیٹ چینج‘‘ کے ایک پوسٹ پر شروع ہونے والی عوامی بحث نے ادارہ جاتی خامیوں اور بدعنوانی کو بے نقاب کر دیا ہے۔

ماہرِ ماحولیات فخر احمد نے رائے دی کہ ای آئی اے کے مکمل عمل کو فوری طور پر ڈیجیٹلائز کیا جانا چاہیے، جس میں آن لائن سبمیشن، لائیو ٹریکنگ، اور صرف زمینی تصدیق کی گنجائش ہو۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام ای آئی اے رپورٹس ویب سائٹ پر دستیاب ہونی چاہئیں تاکہ عوام براہِ راست اپنی آراء اور اعتراضات درج کر سکیں۔ ان کے مطابق، عوامی سماعتوں کی پیشگی اطلاع کم از کم ایک ہفتہ قبل دی جائے اور رپورٹوں کی تعمیل کی صورتحال بھی عوامی کی جائے تاکہ شفافیت کو فروغ ملے۔

سابق ای پی اے افسر ضیاء کٹک نے انکشاف کیا کہ انہیں بطور سینئر ترین افسر بھی کئی ای آئی اے عمل میں شامل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ این او سی کے اجرا میں ’’انڈر دی ٹیبل‘‘ مالی لین دین اور غیر قانونی سرگرمیاں ملوث رہی ہیں۔ ان کے اس بیان نے ای پی اے کی ساکھ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

دیگر تبصروں میں ای آئی اے کو ’’پاکستانی انداز‘‘ کی رسمی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ نہ تو اصل ماحولیاتی مسائل کی نشاندہی کی جاتی ہے اور نہ ہی ان کے حل کی سنجیدہ کوشش کی جاتی ہے۔ ماہرِ ماحولیات ملک شہریار نے طنزیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ای آئی اے رپورٹ کا مطلب ہے صرف Ctrl+C اور Ctrl+V‘‘۔

صارفین کی جانب سے پیش کردہ اصلاحاتی تجاویز میں نورالہدیٰ کا پانچ نکاتی پروگرام شامل تھا، جس میں ای پی اے کو قانون نافذ کرنے کا اختیار دینا، انسانی وسائل کو جدید تربیت دینا، سائنسی آلات کی فراہمی، مالی وسائل میں اضافہ، اور سیاسی مداخلت کو ختم کرنا شامل ہے۔

سوشل میڈیا صارف سہیل شہزاد نے دریائے راوی اربن ڈیولپمنٹ پروجیکٹ اور ساہیوال کے درآمد شدہ کوئلے پر مبنی پاور پلانٹس جیسے میگا پراجیکٹس پر ای پی اے کی خاموشی پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں سے ماحول پر جو تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے تھے، ان پر ادارے نے کوئی فعال کردار ادا نہیں کیا۔

متعدد افراد نے صوبائی ای پی اے اداروں کی ازسر نو تشکیل اور انہیں بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ماحولیاتی تحفظ کی موجودہ پالیسیاں نہ صرف غیر مؤثر ہیں بلکہ بدعنوانی، سیاسی دباؤ اور نااہلی کا شکار بھی ہیں۔

ماحولیاتی تحفظ کے لیے آواز بلند کرنے والے شہریوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت ای آئی اے کے نظام میں فوری طور پر ڈیجیٹل اصلاحات، شفافیت، اور قانون کی سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے، تاکہ ماحولیاتی آلودگی، منصوبہ جاتی بدعنوانی اور ماحولیاتی نظام کی تباہی کو روکا جا سکے۔

Share This Article
ندیم تنولی اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہیں جو پارلیمانی امور، موسمیاتی تبدیلی، گورننس کی شفافیت اور صحت عامہ کے مسائل پر گہرائی سے رپورٹنگ کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے