حفیظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان کی سفارتی کاوشیں خطے میں اعتماد اور وقار کے عکاس ہیں اور مسلم ممالک کے درمیان ضبط اور اتحاد کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حالیہ ٹیلی فونک رابطے کو ایک نمایاں پیش رفت قرار دیا اور اس ’’گرم جوش اور مخلصانہ‘‘ تبادلے کو کشیدگی کم کرنے کے لئے بات چیت اور سفارتکاری کی کامیاب کاوش سمجھا۔ اس سلسلے میں وہیں سفارتی کاوشیں بار بار سامنے آئیں جنہوں نے بات چیت کے راستے کو مضبوط کیا۔اشرفی نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی مشترکہ امن کوششوں کو قابلِ ستائش قرار دیا اور کہا کہ یہ مشترکہ اقدام خطے میں اضافی کشیدگی کو روکنے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے اس تعاون کو مسلم دنیا میں ایک مربوط اور ذمہ دارانہ رویے کی مثال کہا۔اشرفی نے عرب اور اسلامی ممالک خصوصاً سعودی عرب کے محتاط اور تحمل سے کام لینے والے ردعمل کی تعریف کی اور کہا کہ جارحانہ ردعمل کے بجائے حکمتِ عملی اور صبر کا مظاہرہ پاکستان کی رہنمائی اور سفارتی رابطوں کے مطابق مثبت قدم ہے۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے سعودی مملکت پر ہونے والے حملوں کی سخت مذمت کی اور پوری یکجہتی کا اظہار کر کے دوطرفہ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کیا۔ اس بیان نے پاکستان کی سفارتی کاوشیں ایک واضح سمت میں پیش کیں۔اشرفی نے وزیراعظم کی جانب سے ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت کی میزبانی کی پیشکش کو عالمی برادری کا پاکستان پر اعتماد قرار دیا اور کہا کہ یہ پیشکش ہماری ثالثی کی ساکھ کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی سفارتی کاوشیں بین الاقوامی احترام میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو بھی خوش آئند قرار دیتے ہوئے اشرفی نے کہا کہ اگر تمام فریقین آمادہ ہوں تو اسلام آباد مذاکرات کی سہولت کاری کیلئے تیار ہے اور پاکستان کے متوازن رویے کو عالمی رہنماؤں تک تسلیم حاصل ہو رہی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان بھائی ملکوں کے ساتھ مل کر امن، استحکام اور اتحاد کے فروغ کیلئے کام جاری رکھے گا اور مسلم امہ میں اختلافات کو بڑھنے نہیں دے گا۔ اشرفی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اصولی اور متوازن سفارتکاری نے اس کا عالمی وقار بڑھایا ہے اور خطے میں امن کی کوششوں کا مظہر بنی ہوئی ہے۔
