جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی کمیٹی برائے بچوں کے حقوق نے پاکستان کی ششم و ہفتم دورانیہ رپورٹ اور بچوں کی فروخت کے خلاف اختیاری پروٹوکول کی ابتدائی رپورٹ کا باقاعدہ جائزہ لیا اور حکومت نے قانون سازی، پالیسی اور ادارہ جاتی اصلاحات میں کی گئی پیش رفت پیش کی۔ اس جائزے میں بچوں کے حقوق کی حکومتی حکمتِ عملی پر تفصیلی مباحثہ ہوا۔حکومتی وفد کی قیادت وزیر مملکت برائے قانون و انصاف برطانیہ عقیل ملک نے کی جبکہ وفد میں سکریٹری وزارت برائے انسانی حقوق عبد الخالق شیخ، چیئرپرسن پنجاب چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو سارہ احمد اور پاکستان کے مستقل مندوب جنیوا بلال احمد بھی شامل تھے۔ وفد نے کمیٹی کو ملک بھر میں بچوں کے حقوق کے نفاذ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔گزشتہ جائزے کے بعد وفاقی اور صوبائی سطح پر متعدد اہم قوانین پاس یا ترمیم کیے گئے جو بچوں کے حقوق کے تحفظ کو مضبوط کرتے ہیں۔ اس کے تحت مختلف صوبوں اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں کم عمر شادی کو روکنے کے لیے ۲۰۲۵ء میں عمرِ نکاح اٹھارہ سال مقرر کرنے والے قوانین قابلِ ذکر رہے۔ بچوں کی شادی کے خلاف مضبوط ذمے داریاں اور سزائیں نافذ کرنے کے اقدامات کو متواتر پیشرفت قرار دیا گیا۔آن لائن جنسی استحصال اور سائبر ہراسانی کو مجرمانہ قرار دینے والی قانون سازی، سرکاری و نجی اداروں میں ڈے کیئر کی شرط، سرکاری اور نجی اداروں کے لیے والدین کی چھٹیوں کے قانونی ضوابط، مذہبی اقلیتوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر میں اضافے، انسانی اسمگلنگ کے مقدمات میں حفاظت کے اضافی اقدامات اور نابالغوں کے لیے خصوصی عدالتی طریقہ کار سمیت متعدد اصلاحات پر روشنی ڈالی گئی۔ زینب الرٹ کے تحت بننے والا قانون بچوں کے اغوا اور استحصال کے خلاف فوری ردِعمل کے نظام کے طور پر مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔نابالغان کے عدالتی نظام کے نفاذ کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات کے جواب میں وزیر مملکت نے قومی ہم آہنگی کمیٹی کی جانب سے نظام کی یکساں عملداری کے لیے ضوابط کو حتمی شکل دینے کے عمل کی طرف توجہ مبذول کرائی، تاکہ نابالغ بچوں کی موثر قانونی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ یہ اقدام نابالغان کے انصاف تک رسائی کو بہتر کرنے کا حصہ قرار دیا گیا۔پالیسی اقدامات میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی مثال کے طور پر زارا نامی موبائل ایپلیکیشن کا آغاز شامل تھا جو بچوں کے خلاف بدسلوکی، زیادتی اور غفلت کی رپورٹنگ اور نگرانی میں مدد دیتی ہے۔ اسی طرح قانونی امداد اور انصاف اتھارٹی کم آمدنی والے افراد بشمول بچوں کو مفت قانونی معاونت فراہم کر رہی ہے۔ بینظیر نشونما پروگرام بچوں کی غذائیت اور نمو پر خاص توجہ دیتا ہے، خصوصاً دو سال سے کم عمر بچوں میں کمی اور اس کے تدارک کے لیے طبی، غذائی اور نقد معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔حکومت نے تعلیم کو بنیادی حق تسلیم کرتے ہوئے ۲۰۲۴ء میں قومی تعلیمی ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا تاکہ سکول سے باہر بچوں کی بحالی اور غذائی قلت کے مسائل پر فوری توجہ دی جا سکے۔ سکولوں کی حفاظت برقرار رکھنے اور بچوں کی معمول کی تعلیمی سرگرمیوں کو یقینی بنانے کے لیے صوبائی اور وفاقی ادارے باہم ہم آہنگی کر رہے ہیں۔انسانی حقوق کے ڈھانچے کی مضبوطی بھی نمایاں کی گئی؛ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق نے بین الاقوامی معیار کی پاسداری کے نتیجے میں اعلیٰ درجہ حاصل کیا اور بچوں کے حقوق سے متعلق قومی کمیشن سمیت دیگر ادارے آزادانہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ حکومت نے رپورٹنگ اور فالو اپ کے قومی میکانزم کی بنیاد رکھی ہے تاکہ شواہد پر مبنی پالیسی سازی، بدسلوکی کی نگرانی اور وفاقی و صوبائی سطح پر بہتر رابطہ کاری ممکن بنائی جا سکے۔وفاقی وزارت نے صحت تنظیم کے ساتھ مل کر بچوں کے خلاف تشدد کا مقابلہ کرنے کے لیے حکمتِ عملی تیار کرنے کا ذکر کیا اور بجٹ کے معاملات میں بچوں کو ترجیح دیتے ہوئے پنجاب میں منظور شدہ اخراجات میں ۲۵ فیصد اضافہ اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی اسی نوعیت کے اضافے کی طرف اشارہ کیا گیا۔حکومت نے اعتراف کیا کہ غربت، علاقائی عدم استحکام، دہشت گردی اور قدرتی آفات سے بچے خاص طور پر متاثر ہیں اور ان چیلنجز کے باوجود بچوں کے حقوق کی ترویج و حفاظت کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ بچوں کے حقوق حکومت کی انسانی حقوق ایجنڈے کا بنیادی ستون برقرار رہے گا اور شفافیت، تبادلۂ خیالات اور مسلسل بہتری کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
