پاکستان اور کمبوڈیا کے پارلیمانی تعلقات مضبوط

newsdesk
4 Min Read
پارلیمانی دوستی گروپ کی پہلی بریفنگ اسلام آباد میں ہوئی، تجارت، تعلیم اور سیاحت میں تعاون بڑھانے کے امکانات زیر غور آئے۔

اسلام آباد: پاکستان۔کمبوڈیا پارلیمانی فرینڈشپ گروپ (پی ایف جی) کا پہلا بریفنگ سیشن پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں کنوینر محترمہ شمیلہ رانا، رکن قومی اسمبلی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں گروپ کے ارکان دانیال احمد، احمد عتیق انور، ثمر ہارون بلور، تمکین اختر نیازی، ماہ جبین خان عباسی، شازیہ فرید، نتاشہ دولتانہ، نیلم کماری اور سعیدہ جمشید نے شرکت کی۔ وزارت خارجہ اور وزارت تجارت کے نمائندگان بھی اجلاس میں موجود تھے جبکہ کمبوڈیا میں پاکستان کے سفیر نے اجلاس میں آن لائن شرکت کی۔

اجلاس کے آغاز میں کنوینر شمیلہ رانا نے شرکا کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان اور کمبوڈیا کے درمیان پارلیمانی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی فرینڈشپ گروپس دونوں ممالک کی پارلیمانوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دینے اور عوامی سطح پر روابط کو بڑھانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان۔کمبوڈیا پارلیمانی فرینڈشپ گروپ دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی روابط کو مضبوط بنانے اور تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

وزارت خارجہ کے حکام نے اجلاس کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے روابط محدود رہے ہیں تاہم کمبوڈیا نے پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ پاکستان نے کمبوڈیا کو پاکستان میں سفارتی مشن قائم کرنے میں سہولت فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی ہے اور امید ظاہر کی کہ اس اقدام سے دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ ملے گا۔ بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان ان ابتدائی ممالک میں شامل تھا جنہوں نے کمبوڈیا کو تسلیم کیا اور دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ اور تعاون پر مبنی تعلقات قائم ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ حالیہ برسوں میں تجارت، اقتصادی تعاون اور پارلیمانی روابط کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔ ارکان کو آگاہ کیا گیا کہ مختلف ادارہ جاتی مکینزمز اور تجارتی رابطوں کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر دوسری مشترکہ تجارتی کمیشن کے اجلاس اور وزارتی سطح کے روابط کا بھی ذکر کیا گیا جن کے ذریعے تعاون کے نئے مواقع کی نشاندہی کی گئی ہے۔

بریفنگ میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ ٹیکسٹائل، ادویہ سازی، چمڑے کی مصنوعات اور سفری و سیاحتی مصنوعات کے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور تجارت بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

اجلاس کے دوران ارکان نے پارلیمانی سفارت کاری کو فروغ دینے اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تجارت، سیاحت، تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ثقافتی تبادلوں کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے