اسلام آباد میں پاکستان نے 58ویں آسیان ڈے کی تقاریب میں بھرپور انداز میں شرکت کی، جہاں پاکستانی اور آسیان ممالک کے فنکاروں نے اپنی ثقافتی ورثے کی جھلک پیش کی۔ نِفٹی اسفیئر انسٹی ٹیوٹ آف آرٹس اینڈ ڈیزائن کے زیر اہتمام منعقدہ اس تقریب میں موسیقی، رقص اور روایتی فنون نے شرکاء کو محظوظ کیا، جب کہ آسیان ممالک کے فنکاروں کے شاندار فن پاروں نے بھی داد سمیٹی۔ اس موقع پر پاکستان اور آسیان کے درمیان ثقافتی ہم آہنگی، سیاسی تعاون اور اقتصادی شراکت داری کو اجاگر کیا گیا۔
تقریب میں آسیان رکن ممالک کے سربراہان مشنز نے شرکت کی، جن کی قیادت میانمار کے سفیر اور اسلام آباد میں آسیان کمیٹی کے چیئرمین ایچ ای مسٹر وننا ہان نے کی۔ وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت، اورنگزیب خان کچھی اس موقع پر مہمانِ خصوصی تھے۔
اپنے خطاب میں وفاقی وزیر نے آسیان کے 58ویں یومِ تاسیس پر رکن ممالک کو مبارکباد دی اور اسے علاقائی ترقی کی ایک بہترین مثال قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے آسیان کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان 1993 سے ’ویژن ایسٹ ایشیا‘ پالیسی کے تحت سیکٹورل ڈائیلاگ پارٹنر رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے آسیان کمیونٹی وژن 2025 کی کامیاب تکمیل کو سراہا اور وژن 2045 کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے علاقائی فورم کو فعال بنانے پر زور دیا تاکہ سائبر سیکیورٹی، فوڈ سیکیورٹی، ماحولیاتی تبدیلیوں اور اخلاقی مصنوعی ذہانت جیسے نئے چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ 1999 میں قائم ہونے والا آسیان-پاکستان کوآپریشن فنڈ عملی تعاون کے لیے اہم پلیٹ فارم ہے، اور 2024 تا 2028 پلان کے تقریباً 30 فیصد منصوبوں پر عملدرآمد ہو چکا ہے۔ وزیر موصوف نے 2022 میں پاکستان اور آسیان ممالک کے درمیان ہونے والی دس ارب ڈالر کی دو طرفہ تجارت کا حوالہ دیتے ہوئے تجارتی توازن کو بہتر بنانے اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے پر زور دیا۔
انہوں نے ڈیجیٹل جدت، زراعت، موسمیاتی استحکام، صحت عامہ، غربت میں کمی اور صنفی مساوات جیسے شعبوں میں پاکستان کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا اور ان شعبوں میں شراکت داری کی پیشکش کی۔ انہوں نے آسیان ممالک میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کو عوامی سطح پر تعلقات مضبوط بنانے پر خراج تحسین پیش کیا اور پاکستان کے مکمل ڈائیلاگ پارٹنر اسٹیٹس کی امید ظاہر کی۔
میانمار کے سفیر اور آسیان کمیٹی کے چیئرمین، ایچ ای مسٹر وننا ہان نے کہا کہ آسیان 8 اگست 1967 کو بینکاک میں قائم ہوئی تھی اور اس برس اس کی 58ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سالگرہ آسیان کے بانی رہنماؤں کے وژن اور مشترکہ کامیابیوں کو یاد کرنے کا موقع ہے۔ انہوں نے پاکستان کی آسیان کے ساتھ طویل المدتی شراکت داری کی اہمیت پر زور دیا اور امید ظاہر کی کہ پاکستان مستقبل میں بھی آسیان کمیونٹی وژن 2045 اور اس کی اسٹریٹجک منصوبہ بندی میں معاونت کرتا رہے گا۔
نِفٹی اسفیئر انسٹی ٹیوٹ کے سی ای او عثمان شاہ نے کہا کہ ادارہ پاکستانی ثقافتی شناخت کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور نوجوان فنکاروں کو صلاحیتیں دکھانے کے لیے پُرعزم ہے۔
