افریقہ کے ساتھ تعلقات میں نئے امکانات

newsdesk
5 Min Read
وزیراعظم کی ہدایت پر افریقہ کے ساتھ تجارت و سرمایہ کاری میں اضافہ، ایتھوپیا ادیس ابابا میں نمائش ١٦ تا ١٨ اکتوبر ٢٠٢٥ میں سو سے زائد پاکستانی شرکت کنندگان

وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق افریقہ کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے اور تجارت، سرمایہ کاری اور تجارتی رابطوں کو وسعت دینے کے لیے حکومتی اور نجی سطح پر اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔ پاکستان افریقہ روابط پر گفتگو میں وزارتِ خارجہ کے اضافی سیکرٹری حمید اصغر خان نے افریقہ میں تجارتی شمولیت اور صنعتوں میں مشترکہ منصوبہ بندی کی اہمیت اجاگر کی۔انہوں نے بتایا کہ تجارتی فروغ کے ادارے ٹی ڈی اے پی کے اشتراک سے اور پاکستانی سفارتخانے کی معاونت سے ادیس ابابا میں نمائش کا اہتمام کیا جا رہا ہے جو ١٦ تا ١٨ اکتوبر ٢٠٢٥ تک جاری رہے گی اور اس میں سو سے زائد پاکستانی نمائندگان شرکت کریں گے تاکہ براہِ راست رابطے اور بی ٹو بی مواقع میسر آئیں۔شرکائے اجلاس میں افریقی ممالک کے دس سفارت کاروں نے شرکت کی اور انہوں نے اپنے اپنے ممالک کے ساتھ موجودہ تعاون، درپیش رکاوٹیں اور ان کے ازالے کے لیے عملی تجاویز پیش کیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ کئی افریقی حکومتیں صنعتی سرمایہ کاری اور جوائنٹ وینچرز کو فروغ دینے کے لیے مراعات دے رہی ہیں، جو مقامی پیداوار اور روزگار کے مواقع بڑھائیں گی۔اجلاس میں زرعی تعاون اور صحت کے شعبوں کو خاص اہمیت دی گئی اور بتایا گیا کہ یہ دو شعبے باہمی تجارت بڑھانے کے لیے بنیادی گنجائش رکھتے ہیں۔ پاکستان افریقہ روابط کو مضبوط کرنے کے لیے تعلیمی، ثقافتی اور پِی ٹو پی میل جول کو بھی فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ نوجوانوں میں باہمی واقفیت بڑھے۔اضافی سیکرٹری نے ہوابازی کے ذریعے ایتھوپیا تک براہِ راست رابطے کو اہم کہتے ہوئے بحری راستے کے ذریعے مشرقی افریقہ سے بندرگاہی کنیکٹوٹی کے منصوبے کا ذکر کیا اور کہا کہ پاکستانی حکام مشرقی افریقی بندرگاہوں سے براہِ راست شپنگ اور پورٹ کنکشن کے انتظامات پر کام کر رہے ہیں۔اجلاس کے شرکاء نے پاکستانی فوجیوں کی افریقہ میں اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں خدمات اور قربانیوں کو یاد کیا۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ افریقہ میں امن و استحکام کے لیے ہمارے تقریباً ٢٨٠ افسران و اہلکار جان کی قربانیاں دے چکے ہیں جو تعلقات کی گہرائی کی عکاسی کرتی ہیں۔اجلاس میں دوطرفہ معاہدوں اور نجی شعبے کی شراکت داری کی متعدد مثالیں پیش کی گئیں جن میں الجزائر میں فاطمہ گروپ کے ساتھ فاسفیٹ فرٹیلائزر کے لیے مفاہمت، روانڈا میں فضائی و ماحولیاتی تحفظ کے منصوبے، نائجیریا میں زرعی مشینری کے نجی معاہدے، کینیا کے ساتھ چائے کی تجارت اور مراکش میں فاسفورک ایسڈ پر فاوجی فرٹیلائزر کے جوائنٹ وینچر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مصر میں پاکستانی فٹبال فیکٹری اور کانگو ڈیموکریٹک ریپبلک میں پاکستانی تاجروں کی سرمایہ کاری کے منصوبے کا بھی ذکر کیا گیا۔بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستانی تجارت کا افریقہ کے ساتھ موجودہ حجم ٥.٤ ارب ڈالر سالانہ سے کہیں بڑھ سکتا ہے اور خصوصاً صحت کا شعبہ دس ارب ڈالر تک تجارت بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تجارتی لین دین میں ثالثی فریقوں کے خاتمے اور براہِ راست تجارت کو فروغ دینے پر زور دیا گیا تاکہ صارفین کے لیے قیمتیں کم ہوں اور کاروباری روابط مستحکم ہوں۔مالی معاملات اور محفوظ تجارت کے انتظامات پر البَرکہ بینک کے جنرل منیجر برائے شمالی افریقہ نے بھی روشنی ڈالی اور بتایا کہ افریقہ میں متعدد شاخیں معتبر معاشی رابطے کے لیے دستیاب ہیں۔ اضافی سیکرٹری نے نجی شعبے سے استدعا کی کہ وہ بی ٹو بی کنکشن اور جوائنٹ وینچرز کے ذریعے اصل صلاحیت کو بروئے کار لائے۔اجلاس میں سینئر ملکی و تجارتی شخصیات نے اپنے تجربات اور ملاقاتوں کی روشنی میں شراکت کے عملی راستے بتائے جبکہ سینیٹر مشاہد حسین سید نے افریقہ کے ساتھ تاریخی تعلقات اور مواقع پر بات کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جلد پاکستانی اور افریقی تعاون نئی بلندیوں کو پہنچے گا۔ اس طرح کے مذاکرات اور نمائشیں پاکستان افریقہ روابط کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے