پاکستان اور افغانستان کشیدگی میں نیا موڑ

newsdesk
4 Min Read
پاکستان اور افغانستان کے حالیہ واقعات علاقائی سلامتی اور سرحدی انتظام کی اہمیت واضح کرتے ہیں، تعاون اور داخلی مضبوطی ناگزیر ہیں

پاکستان۔افغانستان کشیدگی: علاقائی سلامتی کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ


تحریر: تصدق گیلانی

پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی محض سرحدی جھڑپوں کا ایک اور واقعہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کی داخلی سلامتی، علاقائی سفارت کاری اور طویل المدتی تزویراتی سمت کے لیے ایک فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہو سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق پاکستان کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے منسلک شدت پسند ٹھکانوں کے خلاف سرحد پار کارروائیاں پالیسی میں ایک نمایاں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہیں۔ اسلام آباد طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ پاکستان مخالف عناصر سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں میں موجود ہیں۔ حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان فوری خطرات کے پیش نظر یکطرفہ اقدام کرنے کے لیے زیادہ آمادہ دکھائی دیتا ہے۔

دوسری جانب افغانستان میں افغان طالبان حکومت کو داخلی و خارجی دباؤ کا سامنا ہے۔ کابل اگرچہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کی تردید کرتا ہے، تاہم زمینی حقائق زیادہ پیچیدہ ہیں۔ داعش خراسان (آئی ایس کے پی) کی موجودگی اور طالبان صفوں میں دھڑوں کی تقسیم نے حکمرانی کے چیلنجز کو بڑھا دیا ہے۔ نظریاتی سخت گیر عناصر اور نسبتاً عملیت پسند حلقوں کے درمیان اختلافات کابل کی مکمل کنٹرول کی صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں۔

پاکستان کے لیے صورتحال نہایت حساس ہے۔ بنوں اور خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع میں حملوں کی حالیہ لہر اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ شدت پسندی اب بھی ایک مستقل خطرہ ہے۔ سکیورٹی فورسز عزم کا مظاہرہ کر رہی ہیں، تاہم صرف عسکری کارروائیاں ان نظریاتی اور لاجسٹک نیٹ ورکس کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتیں جو شدت پسندی کو تقویت دیتے ہیں۔

موجودہ حالات ایک ہمہ جہت حکمت عملی کے متقاضی ہیں۔ سرحدی نظم و نسق اور انٹیلی جنس تعاون کو مزید مؤثر بنانا ہوگا۔ کابل کے ساتھ سفارتی روابط کشیدگی کے باوجود جاری رکھنا ضروری ہے کیونکہ پائیدار امن صرف محاذ آرائی سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو سیاسی، معاشی اور سماجی سطح پر داخلی استحکام کو مضبوط بنانا ہوگا کیونکہ عدم استحکام ہمیشہ کمزور حکمرانی میں جنم لیتا ہے۔

علاقائی سطح پر بھی پاکستان۔افغانستان سرحدی کشیدگی کے اثرات وسیع ہیں۔ چین کے اقتصادی مفادات، وسطی ایشیا کے رابطہ منصوبے اور بھارت کی تزویراتی حکمت عملی بالواسطہ طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔ جنوبی ایشیا ایک اور طویل پراکسی کشمکش اور باہمی بداعتمادی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ صورتحال کو حد سے زیادہ تشویش کا رنگ نہ دیا جائے۔ اگرچہ بیانات میں سختی آ سکتی ہے، مگر اسلام آباد اور کابل دونوں غیر قابو تصادم کی بھاری قیمت سے آگاہ ہیں۔ دونوں ممالک کی معاشی نازک صورتحال طویل تنازع کو تزویراتی طور پر ناقابلِ عمل بناتی ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ کشیدگی وقتی طور پر بڑھے گی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا یہ مرحلہ انسداد دہشت گردی کے منظم تعاون کی جانب پیش رفت کا باعث بنتا ہے یا پھر جوابی کارروائیوں کے ایک مستقل سلسلے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

پاکستان کے لیے یہ تزویراتی پختگی کا امتحان ہے۔ مضبوط سکیورٹی ردعمل کے ساتھ سفارتی بصیرت اور داخلی اصلاحات کو ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ آگے کا راستہ محض طاقت کے اظہار میں نہیں بلکہ دانشمندانہ ریاستی حکمت عملی میں مضمر ہے۔

آنے والے مہینے واضح کریں گے کہ یہ بحران محض ایک اور سرخی ثابت ہوتا ہے یا علاقائی سلامتی کی حرکیات میں ایک تاریخی تبدیلی کا پیش خیمہ بنتا ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے