پاکستان جاپان تعلقات میں نئے تعلیمی و معاشی مواقع

newsdesk
3 Min Read

انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) میں جاپان کے سینئر ڈپٹی منسٹر برائے خارجہ امور ایمبیسیڈر تاکیشی اکاہوری کی قیادت میں جاپانی وفد کا خیرمقدم کیا گیا، جہاں دونوں ممالک کے درمیان باہمی، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر دونوں فریقین نے پاکستان اور جاپان کے درمیان دیرینہ تعلقات اور مستقبل میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

میزبان ایمبیسیڈر سہیل محمود نے جاپانی وفد کا پرتپاک استقبال کرتے ہوئے پاک جاپان تعلقات کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات باہمی احترام، طویل دوستی اور خطے میں امن و خوشحالی کے مشترکہ عزم پر مبنی ہیں۔ ایمبیسیڈر سہیل محمود نے تجارت، سرمایہ کاری، موسمیاتی تبدیلی، توانائی، ٹیکنالوجی، افرادی قوت کی ترقی اور عوامی رابطوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی وسیع گنجائش پر زور دیا۔ انہوں نے جاپان کو پاکستان کا قابل اعتماد ترقیاتی شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی و پالیسی سطح پر روابط کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ ابھرتے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے نئے خیالات سامنے آسکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن سازی، علاقائی روابط کے فروغ اور بین الاقوامی فورمز پر موسمیاتی تبدیلی، پائیدار ترقی اور عالمی مالیاتی و حکومتی اداروں میں اصلاحات جیسے اہم مسائل پر جاپان کے تعمیری کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جاپان کا تعاون خطے میں استحکام اور جامع مکالمے کی حمایت میں ہمیشہ اہم رہا ہے۔

دوسری جانب، ایمبیسیڈر تاکیشی اکاہوری نے پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون اور مستحکم، خوشحال اور مضبوط مستقبل کے قیام میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے پاکستان میں ترقیاتی منصوبوں، موسمیاتی مزاحمت، انسانی وسائل کی ترقی، انفراسٹرکچر اور علاقائی استحکام میں جاپان کی مسلسل معاونت کو اجاگر کیا اور طویل المدتی تعاون برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور عوامی روابط میں دوطرفہ شراکت داری کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر بھی تاکید کی۔

اجلاس کے دوران جنوبی ایشیا، ایشیا پیسیفک، افغانستان کی صورتحال اور عالمی طاقتوں کے تعلقات جیسے علاقائی و عالمی امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ آخر میں اجلاس کے شرکاء نے پاک جاپان تعلقات کو ہر شعبے میں مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور تیزی سے بدلتے ہوئے علاقائی و عالمی منظرنامے میں اس دیرینہ شراکت داری کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے