اسلام آباد میں 18 مارچ کو منعقدہ ایک مشترکہ آرٹ نمائش میں ثقافتی تعلق اور عوامی سطح پر باہمی ہم آہنگی کے پُر اثر مناظر سامنے آئے۔ نمائش کا اہتمام چینی میڈیا گروپ اور قومی کونسلِ فنونِ لطیفہ نے مشترکہ طور پر کیا، جس کا مقصد پاک چین دوستی کو فنونِ لطیفہ کے ذریعے عام فہم انداز میں منظرِ عام پر لانا تھا۔وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے مہمانِ خصوصی کے طور پر کہا کہ یہ تعلق محض سفارتی یا حکومتی سطح تک محدود نہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی گہری ہم آہنگی موجود ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ نمائش رنگ اور تخلیقی اظہار کے ذریعے اس ربط کی عکاسی کرتی ہے اور نوجوانوں کو اس تاریخی تعلق کی قدر و اہمیت سے روشناس کراتی ہے۔چین کے سفارت خانے کے ثقافتی مشیر جناب چن پینگ نے مہمانِ اعزاز کی حیثیت سے شرکت کی اور کہا کہ یہ نمائش 75 سالہ سفارتی تعلقات اور باہمی اعتماد کی مثال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فنونِ لطیفہ مشترکہ ثقافتی ورثے اور تخلیقی اظہار کو اجاگر کرتے ہیں اور باہمی سمجھ بوجھ اور قربت کو فروغ دے کر پاک چین دوستی کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔پارلیمانی سیکرٹری برائے قومی ورثہ و ثقافت فرح نز اکبر نے بھی زور دیا کہ ثقافت اور فنونِ لطیفہ لوگوں کو قریب لانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور ایسی نمائشیں باہمی احترام اور ثقافتی تبادلے کے مؤثر مواقع فراہم کرتی ہیں۔نمائش میں پاکستانی اور چینی فنکاروں کے نمایاں اور متنوع آرٹ ورک پیش کیے گئے جنہیں شرکاء اور ماہرینِ فنون نے داد سے نوازا۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس موقع کو پاک چین دوستی کے فروغ اور عوامی سطح پر ثقافتی رابطے مضبوط کرنے کا ذریعہ قرار دیا۔ اس قسم کے ثقافتی اقدامات کا مقصد پاک چین دوستی کو فن کے ذریعے نئی معنویت دینا اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات کو مزید گہرا کرنا ہے۔
