کراچی میں ایک مقامی ہوٹل میں منعقدہ میڈیا بریفنگ میں اوور چالیس ٹی ٹوئنٹی کی ٹرافی متعارف کرائی گئی، جس سے کل شروع ہونے والے تاریخی مقابلوں کے آغاز کا سرکاری اعلان ہوا۔ یہ کپ انٹرنیشنل ماسٹرز کرکٹ کونسل کے تحت منعقد ہونے والا پہلا ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ اوور چالیس ورلڈ کپ ہے اور میزبان ہونے کے ناطے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک نمایاں مقام حاصل ہوچکا ہے۔
پاکستان ویٹرنز کرکٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین فواد اعجاز خان نے بریفنگ میں کہا کہ اس عالمی ایونٹ کی میزبانی پاکستان کے لیے باعث فخر ہے۔ انہوں نے کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی، سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سیکیورٹی اداروں اور ایونٹ کے اسپانسرز کا خصوصی شکریہ ادا کیا جن کی مکمل معاونت نے ٹورنامنٹ کے اہتمام کو ممکن بنایا۔
مقابلے میں بارہ بین الاقوامی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جن میں پاکستان، آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیز، سری لنکا، زمبابوے، امریکہ، کینیڈا، ہانگ کانگ، متحدہ عرب امارات، باقی دنیا اور باقی خلیجی ٹیم شامل ہیں۔ کل بیالیس میچ مختلف مقامات پر کھیلے جائیں گے جن میں ساوتھ اینڈ کلب کرکٹ اسٹیڈیم، نیشنل بینک اسٹیڈیم، کراچی جمخانہ کرکٹ گراؤنڈ، این بی پی اسپورٹس کمپلیکس اور ڈی ایچ اے اسپورٹس کلب نمایاں ہیں۔
پاکستان کے تمام میچز خاص طور پر سیمی فائنل اور فائنل نیشنل بینک اسٹیڈیم میں شیڈول کیے گئے ہیں، جس کی وجہ سے راقمین اور شائقین کو کراچی میں اعلیٰ سطح کے مقابلے دیکھنے کا موقع ملے گا۔
پاکستان ویٹرنز نے ایونٹ کے لیے اٹھارہ رکنی اسکواڈ کا اعلان بھی کیا ہے جس کی قیادت سابق آل راونڈر عبدالرزاق کریں گے جبکہ فواد عالم نائب کپتان ہوں گے اور شاہد افریدی اپنے موجودہ جوش اور تجربے کے ساتھ ٹیم کو بھرپور ستائیش دیں گے۔ اسکواڈ میں ذوالفقار بابر، سہیل خان، تابش خان اور ہمایوں فرحت سمیت تجربہ کار کرکٹرز شامل ہیں جو اوور چالیس ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔
اعلانیہ کے مطابق سابق ٹیسٹ کرکٹر اعجاز احمد چیف سلیکٹر کے فرائض انجام دے رہے ہیں اور وہ ٹورنامنٹ ٹیکنیکل کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔ جلال الدین کو ہیڈ کوچ مقرر کیا گیا ہے جب کہ لیجنڈ کرکٹر جاوید میانداد ٹیم کے مینٹر ہوں گے اور اعظم خان مینیجر کے فرائض سنبھالیں گے۔ تاریخی اہمیت کی حامل دوسری خبر یہ ہے کہ پہلی بار آئی ایم سی پینل کی خواتین امپائرز بھی میچوں میں ذمہ داریاں نبھائیں گی، جو مقامی اور بین الاقوامی سطح پر شمولیت اور شفافیت کا مثبت پیغام ہے۔
