پاکستان زرعی تحقیق کونسل، اٹلی کے باری تحقیقی ادارے کے زیتون کلچر منصوبے اور نجی زیتون کاشتکار تنظیم کے درمیان تین فریقی معاہدے کے تحت ملک میں زیتون کے شعبے میں ایک اہم شراکت داری قائم کی گئی ہے۔ یہ قدم زیتون کے تحقیقی اور ترقیاتی میدان میں نیا باب کھولتا ہے جس کا اطلاق براہِ راست کسانوں اور زیتون کی پیداوار سے وابستہ صنعت پر متوقع ہے۔اس معاہدے کے تحت منظم پروگرام برائے زیتون کی نسل سازی اور اقسام کی ترقی شروع کیا جائے گا جس میں خاص طور پر جنگلی زیتون اور کاشت شدہ زیتون کے درمیان کنٹرول شدہ ملاپ پر توجہ دی جائے گی۔ اس کوشش کا مقصد جینیاتی بہتری کے ذریعے ایسی زیتون کی اقسام تیار کرنا ہے جو پاکستان کی مختلف زرعی اور موسمی شرائط میں بہتر کارکردگی دکھائیں۔یہ منصوبہ مقامی جنگلی جینز کو کاشت شدہ صلاحیتوں کے ساتھ جوڑ کر قومی سطح پر موافق زیتون کی اقسام کے قیام کی بنیاد رکھتا ہے۔ اس اقدام سے تحقیق، تعلیمی ادارے اور نجی شعبہ ایک فریم ورک کے تحت مل کر کام کریں گے تاکہ طویل المدت میں بہتر بیج اور معیاری پیداوار تک راستہ ہموار ہو سکے۔منصوبے کے عملی نفاذ میں کنٹرول شدہ ملاپ، جینیاتی بہتری اور منتخب اقسام کے انتخاب کے مراحل شامل ہوں گے تاکہ زیتون کی اقسام ملک کی مخصوص زرعی ضروریات کے مطابق تیار کی جا سکیں۔ شمولیت کرنے والے فریقین کا کہنا ہے کہ اس تعاون سے زیتون کے شعبے میں تحقیقی صلاحیت بڑھے گی اور کسانوں کو فائدہ پہنچانے والے نتائج سامنے آئیں گے۔
