تنظیمِ تعاونِ اسلامی غیرقانونی بستیوں کے خلاف متفق

newsdesk
4 Min Read
انسٹی ٹیوٹ برائے علاقائی مطالعات میں ویبینار میں تنظیمِ تعاونِ اسلامی کے ذریعے غیر قانونی بستیوں کے خلاف مشترکہ ردِعمل اور سفارتی حکمتِ عملی پر زور دیا گیا

انسٹی ٹیوٹ برائے علاقائی مطالعات، اسلام آباد نے ایک ماہر ویبینار منعقد کیا جس میں ڈاکٹر فیراس قواسمہ، جوعان بن جاسم اکیڈمی برائے دفاعی مطالعات، قطر کے نمائندہ نے شرکت کی اور تنظیمِ تعاونِ اسلامی کے ذریعے غیر قانونی بستیوں کے خلاف یکجہتی کے موضوع پر گفتگو کی۔ ویبینار میں قابض علاقوں میں غیر قانونی بستیوں کے بڑھتے ہوئے رجحانات اور ان کے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ڈاکٹر فیراس قواسمہ نے بتایا کہ قابض مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کی توسیع محض جغرافیائی تبدیلی نہیں بلکہ مقامی باشندوں کی سیاسی اور سماجی آزادیوں پر براہِ راست حملہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تنظیمِ تعاونِ اسلامی کو خطّی سفارت کاری کو مضبوط کر کے گھریلو سطح کی مہمات، خاص طور پر فلسطینی قیادت والی تحریکوں کے ذریعے، بین الاقوامی توجہ حاصل کرنی چاہئے تاکہ غیر قانونی بستیوں کے مسئلے پر موثر دباؤ قائم ہو سکے۔ماہر نے بین الاقوامی نگاہ میں اضافہ کے لیے ایسی حکمتِ عملیاں ضروری قرار دیں جو عوامی بیداری اور قانونی تقاضوں کو یکجا کریں۔ انہوں نے بائیکاٹ، سرمایہ پسپائی اور پابندیوں کی تحریک کو بین الاقوامی شعور اور نگرانی بڑھانے میں اہم قرار دیا اور کہا کہ یہ طریقہ کار فلسطینی حقوق کے تحفظ میں کارگر ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی گفتگو میں غیر قانونی بستیوں کی توسیع کے باعث بڑھتے ہوئے آتش زنی کے واقعات اور زندگیاں متاثر کرنے والی رکاوٹوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔حنان حسین، سربراہ مغربی ایشیا پروگرام، نے شرکاء کو بتایا کہ ویبینار نے مقبوضہ مغربی کنارے کی زمینی صورتحال پر گہری روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ مقامی آبادی اور حملہ آور قوتوں کے درمیان تناؤ میں اضافے کو سنجیدگی سے دیکھا جانا چاہئے۔ اس مباحثے میں اوسلو معاہدات کے دورانیہ سے پیدا ہونے والی سیکورٹی کنٹرول اور سیاسی آزادیوں کی جغرافیائی تبدیلیوں کا حوالہ دئیے بغیر ممکن نہ تھا، جس نے واضح طور پر دکھایا کہ غیر قانونی بستیوں کی توسیع فلسطینی حقوق کو مزید محدود کر رہی ہے۔ویبینار میں سفارشات کا ایک مجموعہ پیش کیا گیا جس میں فلسطینی حقوق کے لیے منظم و مربوط وکالت کاروں کا ایک فعال سلسلہ مرتب کرنے، تنظیمِ تعاونِ اسلامی کے اندر پاکستان اور خلیجی شراکت داروں کے ساتھ مربوط حکمتِ عملی اپنانے، اور مقامی سطح کی مہمات کو بین الاقوامی سطح تک پہنچانے کے لئے مشترکہ منصوبہ بندی شامل تھیں۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس نوعیت کی یکجہتی غیر قانونی بستیوں کے خلاف واضح سیاسی پیغام بھیجتی ہے اور ممکنہ الحاق کی کوششوں کو روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔شرکاء نے اس امر پر بھی زور دیا کہ پاکستان کی دو ریاستی حل، فلسطینی آزادی اور کسی بھی غیرقانونی جارحیت کے خلاف واضح پالیسی بین الاقوامی فورم پر مسلسل برقرار رکھی جائے۔ اسی سلسلے میں پاکستان کی حالیہ تشویش کا اظہار اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی سامنے آیا جہاں مقبوضہ علاقوں میں بستیوں کی توسیع کے خلاف پاکستانی موقف کی تائید کی گئی۔تقریب کے آخر میں ایک فعال سوال و جواب کا سیشن منعقد ہوا جس میں مقبوضہ علاقے میں رکاوٹوں اور مواقع پر مفصل تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے اس نتیجے پر زور دیا کہ تنظیمِ تعاونِ اسلامی کو بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کے مطابق فلسطینی آزادی کو بہتر بنانے کے لیے متحرک اور مربوط حکمتِ عملیاں اختیار کرنی ہوں گی تاکہ غیر قانونی بستیوں کے بڑھتے ہوئے عمل کو روکا جا سکے اور مقبوضہ علاقے میں مستقل بسے رہنے کے امکانات کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے