نیشنل اسکلز یونیورسٹی کے ذریعے ہنر مند مستقبل کی تیاری

newsdesk
4 Min Read
نیشنل اسکلز یونیورسٹی اور پنجاب کے فنی تربیتی اداروں کی شراکت نوجوانوں کو عملی ہنر، اساتذہ کی تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کرے گی۔

مستقبل کے لیے تیار افرادی قوت کی تعمیر: نیشنل اسکلز یونیورسٹی اسلام آباد اور پنجاب کے وی ٹی آئیز کے ساتھ شراکت داری

ندیم اقبال، پروفیسر نیشنل سکلز یونیورسٹی اسلام آباد

پاکستان کی معاشی ترقی اور عالمی مسابقت اب اس بات پر منحصر ہے کہ وہ کس حد تک اپنی نوجوان افرادی قوت کو جدید مہارتوں سے آراستہ کر سکتا ہے۔ چوتھے صنعتی انقلاب نے روزگار کی دنیا کو بدل کر رکھ دیا ہے، جہاں آٹومیشن، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تیزی سے نئے تقاضے پیدا کر رہی ہیں۔ ایسے میں نیشنل اسکلز یونیورسٹی اسلام آباد (NSU) ایک انقلابی ادارہ بن کر ابھرا ہے جس کا مقصد صرف تعلیم نہیں بلکہ ایسی مہارتیں فراہم کرنا ہے جو نوجوانوں کو براہ راست صنعت اور روزگار کی دنیا میں کامیاب بنا سکیں۔

پنجاب، جو پاکستان کا سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہے، ایک وسیع نیٹ ورک کے ذریعے ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس (VTIs) چلا رہا ہے جو نوجوانوں کو عملی ہنر سکھانے میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ ادارے بجلی کے کام، ویلڈنگ، آٹو مکینکس، ہاسپٹیلٹی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں قلیل مدتی کورسز اور ڈپلومے فراہم کرتے ہیں۔ تاہم، ان اداروں کو اکثر پرانے نصاب، کمزور صنعتی روابط اور طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم کی جانب محدود راستوں جیسے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ نیشنل اسکلز یونیورسٹی کے ساتھ شراکت داری ان مسائل کو حل کرنے اور فنی تربیت کو نئی جہت دینے کا ایک بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔

NSU ان اداروں کے ساتھ مل کر ایسا نصاب تیار کر سکتی ہے جو مقامی صنعت کی ضروریات کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی معیار کو بھی پورا کرے۔ اس کے ذریعے روایتی تربیتی پروگرامز میں روبوٹکس، رینیوایبل انرجی اور ڈیجیٹل انٹرپرینیورشپ جیسے نئے شعبے شامل کیے جا سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ NSU اساتذہ کی تربیت اور ان کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے ورکشاپس اور خصوصی پروگرامز کا انعقاد کر سکتی ہے تاکہ وہ جدید صنعتی رجحانات اور تدریسی طریقوں سے ہم آہنگ رہیں۔

بین الاقوامی اداروں کے ساتھ NSU کی شراکت داری جدید ٹیکنالوجی اور وسائل کو پنجاب کے VTIs تک منتقل کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ مشترکہ سرٹیفیکیشن پروگرامز طلبہ کے اسناد کو قومی و عالمی سطح پر تسلیم شدہ بنائیں گے، جس سے ان کی روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔ اسی طرح صنعتی روابط کے ذریعے طلبہ کو انٹرن شپس، اپرنٹس شپس اور ملازمتوں تک رسائی ملے گی۔

پنجاب کے ہزاروں نوجوان جو ان ووکیشنل اداروں سے تعلیم حاصل کرتے ہیں، ان کے لیے NSU کے ساتھ تعاون نہ صرف بہتر تربیت فراہم کرے گا بلکہ انہیں اعلیٰ تعلیم اور ترقی کے مزید راستے بھی کھول کر دے گا۔ ایک ویلڈر، جو VTI سے بنیادی مہارتیں سیکھتا ہے، NSU کے ذریعے ایڈوانس مینوفیکچرنگ تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ آئی ٹی کا طالبعلم مزید اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے ڈیجیٹل معیشت میں کاروباری سرگرمیاں شروع کر سکتا ہے۔

اس تعاون کے نتیجے میں بہتر معیار کی تربیت، زیادہ روزگار کے مواقع، صنعت سے مضبوط روابط اور ایک مربوط تعلیمی راستہ سامنے آئے گا جو نوجوانوں کو مستقبل کے تقاضوں کے لیے تیار کرے گا۔ نیشنل اسکلز یونیورسٹی اسلام آباد اور پنجاب کے ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس کے درمیان یہ شراکت داری نہ صرف تعلیم اور روزگار کے خلا کو کم کرے گی بلکہ پاکستان کی معیشت کو بھی زیادہ مضبوط اور پائیدار بنائے گی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے