قومی ہاکی ٹیم نے انتظامیہ کے خلاف کام سے انکار کر دیا

newsdesk
3 Min Read
ایئرپورٹ پریس کانفرنس میں قومی ہاکی ٹیم نے رہائش، خوراک اور مالی شفافیت کے فقدان کے خلاف موجودہ انتظامیہ سے کام ترک کرنے کا اعلان کیا۔

واپسی پر ایئرپورٹ پر بلائی گئی ہنگامی پریس کانفرنس میں قومی ہاکی ٹیم کے کپتان اور کھلاڑیوں نے قومی کھیل کے انتظامی ڈھانچے کے بارے میں سنگین خدشات کا اظہار کیا۔ کھلاڑیوں نے کہا کہ دورے کے دوران انہیں مناسب رہائش، خوراک اور بنیادی سہولیات میسر نہیں تھیں اور انہیں غیر مناسب حالات میں رکھا گیا۔کھلاڑیوں نے مالی امور میں تضادات کی نشاندہی بھی کی۔ ان کے بقول پاکستان اسپورٹس بورڈ کے مطابق فنڈز جاری کیے جا چکے تھے جبکہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کی پوزیشن مختلف رہی، جس سے فنڈز کے حصول اور اخراجات کی شفافیت پر سنگین سوالات جنم لے گئے ہیں۔عماد شکیل بٹ نے واضح کیا کہ کھلاڑی اس وقت تک موجودہ ٹیم مینجمنٹ، کوچنگ اسٹاف، مینیجر، انتظامی عملہ اور ویڈیو اینالسٹ کے ساتھ کام کرنے سے انکار کریں گے جب تک مکمل اور شفاف تحقیق مکمل نہیں کی جاتی۔ اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کھلاڑیوں کا انتظامی سیٹ اپ پر اعتماد بری طرح متاثر ہوا ہے۔کھلاڑیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن میں فوری طور پر ایڈہاک سیٹ لگائی جائے، ایک آزاد اور غیرجانبدار تفتیشی کمیٹی تشکیل دی جائے اور فنڈز کے اجرا اور خرچ کا مکمل آڈٹ کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ذمہ داران کی شناخت کر کے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور آئندہ بیرونی دوروں کے لیے شفاف اور جوابدہ نظام وضع کیا جائے۔کھلاڑیوں نے اپنے اقدام کو قومی کھیل کے مفاد میں ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قدم دباؤ اور ذاتی نقصان کے خدشات کے باوجود سچ سامنے لانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ قومی ہاکی ٹیم کو ذاتی مفادات یا نااہلی کی وجہ سے نقصان نہیں پہنچنے دینا چاہیے۔کھلاڑیوں نے فوراً اصلاحات کی اپیل کی تاکہ اعتماد بحال ہو اور قومی کھیل کو دوبارہ ترقی کے راستے پر لایا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ شفافیت اور جوابدہی کے بغیر مستقبل کے بین الاقوامی مشنز خطرے میں رہیں گے اور اس کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے