وفاقی وزیر صحت نے قومی صحت کارڈ کا اجرا

newsdesk
3 Min Read
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے قومی صحت کارڈ کا اجرا کیا، مستقل رہائشیوں کو مفت علاج اور سندھ کے دس اضلاع کی شمولیت کی درخواست

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ اسلام آباد، آزادجموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے مستقل رہائشی اب قومی صحت کارڈ کے تحت مفت صحت کی سہولتوں سے مستفید ہوں گے جس سے تقریباً ایک کروڑ افراد بغیر مالی بوجھ کے علاج کروا سکیں گے۔انہوں نے افتتاحی تقریب میں عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بیماریوں کے اخراجات کی وجہ سے تقریباً ایک کروڑ تیس لاکھ پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں۔ اسی تناظر میں وزیر صحت نے کہا کہ اس اقدام سے غریب خاندانوں کو علاج کے لیے ادھر ادھر بھٹکنے، گھر کے ساز و سامان یا زیور بیچنے جیسے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور کوئی بچہ غربت کی بنا پر علاج سے محروم نہیں رہے گا۔مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ملک بھر میں ایک ہزار سے زائد عوامی اور نجی اسپتال قومی صحت کارڈ کے تحت شامل کیے گئے ہیں جہاں ہنگامی صورت حال ہو یا بڑے سرجیکل اقدامات، ہر مریض باعزت اور آسانی کے ساتھ مفت علاج حاصل کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی قیادت میں کسی بھی ماں کو علاج کے اخراجات کی وجہ سے خوفزدہ نہیں رہنا پڑے گا۔وفاقی وزیر نے کراچی میں صحت کی عدم مساوات کی طرف توجہ مبذول کرائی اور کہا کہ اسی گلی میں رہنے والے افراد کو صرف قومی شناختی کارڈ کے پتے کی بنیاد پر مختلف سطح کی سہولتیں ملتی ہیں جو ایک ناانصافی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کراچی کا رہائشی اگر غیر کراچی شناختی کارڈ رکھتا ہے تو مفت علاج حاصل کر سکتا ہے جبکہ کراچی شناختی کارڈ رکھنے والا محروم رہ جاتا ہے، اس کو درست کرنا ضروری ہے۔وزیر صحت نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ سندھ کے دس شہری اور دیہی اضلاع کو قومی صحت کارڈ پروگرام میں شامل کیا جائے جس کے لیے سالانہ تخمینہ چوبیس ارب روپے درکار ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اس معاملے کو سندھ کے وزیر اعلیٰ کے ساتھ اٹھانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔مصطفیٰ کمال نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کا نظام طبّی ماضی میں زیادہ تر ‘بیمار پروری’ پر مرکوز رہا جبکہ اصل مقصد بیماریوں سے بچاؤ اور صحت مند معاشرہ قائم کرنا ہونا چاہیے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ موجودہ ماڈل کو بدل کر ایک جامع اور روک تھام پر مبنی نظام صحت کے نفاذ کے عملی اقدامات جاری ہیں تاکہ بہتر، مساوی اور حفاظتی صحت کی خدمات ہر شہری تک پہنچ سکیں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے