حکومت نے نیشنل جینڈر پیریٹی فریم ورک کے نفاذ کے لیے اپنا عزم دہرادیا ہے، نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن (NCSW) کے تحت منعقدہ دو روزہ نیشنل کنسلٹیشن میں صوبوں اور خطوں نے متعلقہ اشاریے اور رپورٹس پیش کیں اور جینڈر پیریٹی رپورٹنگ کے لیے یکساں میکانزم پر اتفاق رائے قائم ہوا، جس سے آئندہ پالیسی سازی کے لیے قابلِ بھروسہ اور درست ڈیٹا فراہم کرنے کی امید پیدا ہوئی۔
مشاورتی اجلاس میں صوبائی اور علاقائی نمائندوں نے اپنی رپورٹس اور اعداد و شمار پیش کیے جن میں موجودہ خالی جگہوں، پالیسیاں اور ڈیٹا کے معیار پر تفصیلی بحث ہوئی۔ شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جینڈر پیریٹی رپورٹنگ کے لیے یکساں اور مربوط میکانزم ضروری ہے تاکہ ملک گیر سطح پر موازنہ اور ٹریکنگ ممکن ہو۔
سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے فریم ورک کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نیا فریم ورک قابلِ بھروسہ اور درست ڈیٹا فراہم کرے گا اور خواتین کی تعلیم، صحت، روزگار اور قیادت میں موجود خلا پُر کرنے کے لیے پالیسی سازی کو مضبوط بنائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مساوات وعدہ نہیں بلکہ عملی حقیقت ہونی چاہیے۔
وفاقی وزیر نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی اعداد و شمار اکثر پاکستان کی غلط تصویر پیش کرتے ہیں، لہٰذا مقامی اور معیاری ڈیٹا اکٹھا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پالیسی سازی حقیقت پر مبنی ہو۔ انہوں نے حکومتی عزم کا اعادہ کیا کہ فریم ورک کے ذریعے درست تصویر پیش کی جائے گی۔
وزارتِ انسانی حقوق نے اعلان کیا کہ وہ اس فریم ورک کو قوانین اور پالیسیوں میں ضم کرنے کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم ہے تاکہ حقوقِ نسواں کے تحفظ اور مساوی شمولیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اجلاس میں وزیراعظم کے خواتین کے حقوق اور مساوی شمولیت کے فروغ کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔
اجلاس کے اختتام پر شرکا نے متفقہ طور پر اس بات کو یقینی بنانے پر زور دیا کہ تیار کیے جانے والے فریم ورک کے نفاذ سے نہ صرف ڈیٹا کی شفافیت بڑھے گی بلکہ عملی سطح پر خواتین کے لیے مواقع اور نمائندگی میں خاطرخواہ بہتری لائی جا سکے گی۔
