ناقِص بیج کے خلاف زیرو ٹالرنس اور کسانوں کا تحفظ

newsdesk
3 Min Read

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے ناقص بیج کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے بیج سے متعلق قوانین کے سخت نفاذ اور مو¿ثر ضابطہ کاری کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیاری بیج نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافے بلکہ منافع بخشی میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے حکومت کسانوں کی بہتری کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے۔

نیشنل سیڈ ڈویلپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے رانا تنویر حسین نے کہا کہ بیج کے شعبے میں کسی قسم کی بدعنوانی یا غیر معیاری بیج کے کاروبار کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے اتھارٹی کی کارکردگی کو مؤثر بنانے کے لیے مالیاتی اور منصوبہ بندی کمیٹی کے قیام کی ہدایت بھی دی، تاکہ مالی نظم و نسق کو مضبوط اور وسائل کے صحیح استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے اس موقع پر بیج کمپنیوں کی رجسٹریشن کے عمل کو مزید سخت بنانے کا بھی اعلان کیا۔ وفاقی وزیر کے مطابق اب تمام نئی کمپنیاں ترمیم شدہ سیڈ ایکٹ کے تحت ہی لائسنس حاصل کر سکیں گی، جس کے لیے ساختی تیاری، معیار پر پورا اترنے اور مالی ضمانتوں سمیت کئی اہم شرائط پوری کرنا ضروری ہوگا۔ انہوں نے پرفارمنس بانڈ کو لازمی قرار دیا اور غیر فعال یا مسلسل غیر معیاری کمپنیوں کو فوری طور پر خارج کرنے کی ہدایت دی، تاکہ کسانوں کا مفاد ہمیشہ مقدم رہے۔

کپاس کے شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے وفاقی وزیر نے ٹروتھ اینڈ لیبلنگ سسٹم کو پائلٹ بنیادوں پر متعارف کرانے کی منظوری دی، جو کہ معیاری اہلیت اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ پروٹوکولز کے ساتھ نافذ کیا جائے گا، جس سے کسانوں کو ناقص بیج کے نقصانات سے بچایا جا سکے گا۔

وفاقی وزیر نے کسانوں کے حقوق کے مؤثر تحفظ کے لیے گریوینسز ریڈریسل کمیٹی کو یہ بھی ہدایت دی کہ بیج سے متعلق فصلوں کے نقصانات کے دعووں کی جانچ جسمانی تصدیق، ٹیکس نمبر ویری فکیشن اور باضابطہ سماعت کے بعد ہی کی جائے، تاکہ صحیح دعووں پر فوری تلافی یقینی بنائی جا سکے۔

اجلاس کے اختتام پر رانا تنویر حسین نے کہا کہ حکومت کا مشن کسانوں کا تحفظ، بیج کے معیار میں بہتری اور ملک کی زراعت کو جدید بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے، اور ہر قدم اس مقصد کے حصول کے لیے اٹھایا جائے گا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے