قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صدیق نے منگل کو الصفریہ محل میں بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ سے باہمی تعلقات اور پارلیمانی تعاون کے فروغ کے حوالے سے گفتگو کی۔ اس بحرین ملاقات میں باہمی احترام اور دیرینہ بھائی چارے کا اظہار کیا گیا۔اسپیکر نے صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیرِاعظم میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے نیک تمناؤں اور خیر سگالی کے پیغامات پہنچائے۔ بادشاہ حمد بن عیسیٰ نے ان پیغامات کا شکریہ ادا کیا اور پاکستانی قیادت و عوام کے لیے نیک خواہشات اور دعاؤں کا اظہار کیا۔دونوں رہنماؤں نے اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ اسپیکر نے کشمیراور فلسطین کے دیرینہ تنازعات کے پرامن حل کے پاکستان کے موقف کو دہراتے ہوئے وہاں جاری مظالم کی سخت مذمت کی اور قابلِ اطلاق اور پائیدار حل پر زور دیا۔بادشاہ حمد بن عیسیٰ نے پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کیے گئے اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر مبارکباد پیش کی اور اسے خطّے کی مشترکہ سلامتی کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان کو مسلم دنیا میں ایک مرکزی ملک اور دفاعی اعتبار سے معتبر قوت مانا۔ اس موقع پر اسپیکر نے مسلم اُمّت کے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے پاکستان کی وابستگی کو دوبارہ اجاگر کیا۔ملاقات کے دوران دونوں قائدین نے پاکستان اور بحرین کے روایتی تعلقات کو مزید گہرا کرنے، پارلیمانی تبادلوں کو بڑھانے اور اقتصادی و ثقافتی شعبوں میں تعاون کے مواقع تلاش کرنے پر زور دیا۔ اسپیکر نے بحرین پارلیمنٹ کی سرکاری ویب سائٹ پر پائیدار ترقی کے اہداف کے لیے مخصوص سیکشن کو سراہا اور اس سلسلے میں مکمل تعاون کی پیشکش کی۔بادشاہ نے پاکستان میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر گہرا افسوس ظاہر کیا اور بحرین کی جانب سے امداد اور بحالی کے تمام ممکنہ اقدامات کی یقین دہانی کروائی۔ اسپیکر نے بحرین کی ہمدردی اور تعاون کا شکریہ ادا کیا اور اس رشتے کو برادرانہ قرار دیا۔اس پارلیمانی دورے میں شامل ارکانِ اسمبلی میں ظلفیقار بھنڈ، مسرت رفیق مہسر، ملک شاکر بشیر اعوان، سردار شمسیر علی خان مزاری، عبدالعلیم خان، محمد عثمان بدینی، حسن صابر، خورشید احمد جونیجو اور پولان بلوچ شامل تھے۔دونوں فریقین نے مستقبل میں پارلیمانی رابطوں، قانون ساز تجربات کے تبادلے اور مشترکہ منصوبہ بندی کے ذریعے تعلقات کو مستحکم کرنے پر اتفاق کیا تاکہ خطے میں امن و خوشحالی کے اہداف کو فروغ دیا جا سکے۔
