اسلام آباد راؤنڈ ٹیبل، بیرسٹر دانیال چوہدری کا تعلیمی اصلاحات پر اہم اعلان

newsdesk
4 Min Read

اسلام آباد: وزارتِ اطلاعات و نشریات کے پارلیمانی سیکرٹری بیرسٹر دانیال چوہدری نے اسلام آباد میں منعقدہ ایک اہم راؤنڈ ٹیبل اجلاس کے دوران بچوں کے لیے جامع اور دوستانہ تعلیمی نظام کے قیام کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ اجلاس "سٹیز فار چلڈرن” کے زیرِ اہتمام اور ملالہ فنڈ کے تعاون سے منعقد ہوا، جس میں بچوں کے اسکول چھوڑنے کے رجحان میں کمی کے لیے عملی حکمت عملیوں پر غور کیا گیا۔

تقریب میں رکنِ قومی اسمبلی شائستہ پرویز ملک اور پارلیمانی سیکرٹری برائے تعلیم رابعہ نسیم فاروقی بھی شریک تھیں۔ بیرسٹر دانیال چوہدری نے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کو صرف داخلے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایسا محفوظ اور معاون ماحول فراہم کرنا ضروری ہے جہاں ہر بچہ ترقی کر سکے۔

انہوں نے اپنے حلقہ این اے 57 میں جاری تعلیمی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اسکول سے باہر بچوں کے داخلے کے لیے مہم کے تحت مالی سال 2026 کے لیے 39 ہزار بچوں کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جن میں سے 5 ہزار بچوں کو چند ہفتوں میں اسکولوں میں داخل کیا جا چکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تعلیمی انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے 20 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے تحت 33 میٹرک ٹیک اسکول، 29 کمپیوٹر لیبز اور 434 ہائی اسکولوں سمیت 10 ایلیمنٹری اسکولوں میں لیبارٹریز کو اپ گریڈ کیا گیا ہے۔

مزید برآں چار گرلز اسکولوں میں میک اپ اور ڈیزائننگ کی کلاسز شروع کی گئی ہیں تاکہ طالبات کو ہنر سکھایا جا سکے، جبکہ اساتذہ کی تربیت کے لیے خصوصی منصوبے بھی جاری ہیں۔ راولپنڈی ڈویژن کی سطح پر سٹیم مقابلے میں نمایاں کارکردگی کو عملی تعلیم کی کامیابی قرار دیا گیا۔

شمولیتی تعلیم کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ خواجہ سرا طلبہ کے لیے دو ضلعی اسکول قائم کیے گئے ہیں جہاں 100 طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جبکہ زرعی کاموں میں مصروف بچوں کے لیے صبح سویرے اسکول کا نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 100 اسکولوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ 20 اسکولوں کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔

راؤنڈ ٹیبل میں شریک ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی رسائی کے ساتھ ساتھ بچوں کے اسکول میں تجربے کو بہتر بنانا بھی ضروری ہے، جس میں خوشگوار ماحول، ذہنی و جذباتی نشوونما اور مثبت تربیت شامل ہے۔ شرکا نے خاص طور پر لڑکیوں کے لیے ایسی حکمت عملیوں کی ضرورت پر بھی زور دیا جو ان کے اعتماد اور احساسِ وابستگی کو مضبوط کریں۔

بیرسٹر دانیال چوہدری نے پنجاب حکومت کے وسیع تعلیمی ایجنڈے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس میں موبائل اسکول اور لائبریریاں، ہونہار اسکالرشپ پروگرام، لیپ ٹاپ اسکیم، آئی ٹی ہبز، اسکول نیوٹریشن پروگرام، خواتین کالجوں کے لیے بسوں کی فراہمی اور خصوصی طلبہ کے لیے مراکزِ مہارت شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات صوبے میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے