کثیرالجہتی تعاون عالمی امن کی ضرورت

newsdesk
4 Min Read
انسٹی ٹیوٹ برائے علاقائی مطالعات میں سیمینار میں ماہرین نے کثیرالجہتی تعاون اور چین کے کردار کو عالمی امن کے لیے لازم قرار دے دیا

انسٹی ٹیوٹ برائے علاقائی مطالعات، اسلام آباد کے چین پروگرام کی میزبانی میں منعقدہ سیمینار میں ماہرین نے موجودہ عالمی تناؤ اور یکطرفہ اقدامات کے ماحول میں عالمی اداروں کی کمزوری اور امن و استحکام کے لیے باہمی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ شرکاء نے کہا کہ عالمی نظام کے بکھرنے کے اثرات کا سدِ باب تبھی ممکن ہے جب ممالک باہمی احترام اور قانون کے درپے رہیں۔تقریب کا افتتاحی کلمات سفیر جوہر سلیم نے کہے جبکہ مرکزی خطاب سینیٹر مشاہد حسین سید نے پیش کیا۔ پینل میں ڈاکٹر ظفر نواز جسپال، سفیر نائلہ چوھان، ڈاکٹر منظور افریدی، ڈاکٹر چیان فینگ، ڈاکٹر نور فاطمہ، ڈاکٹر طلعت شبیر اور وانگ شینگجیے سمیت متعدد ماہرین نے شرکت کی اور مختلف زاویوں سے تبصرے کیے۔پینل مباحثے میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ چند طاقتور ممالک کے یکطرفہ رویوں نے بین الاقوامی اداروں کی افادیت کو متاثر کیا ہے اور اس سے امن و استحکام میں خلل پیدا ہوا ہے۔ شرکاء نے خاص طور پر اس رجحان کی طرف توجہ دلائی کہ عسکری جارحیت اور سرحدی تنازعات بین الاقوامی تعاون کے لیے خطرہ ہیں اور ان کا تدارک مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہے۔مباحثے میں چین کو کثیرالجہتی اقدار اور عالمی رابطے کے فروغ میں مرکزی کردار ادا کرنے والا ملک قرار دیا گیا۔ متعدد ملکوں کے چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے سے وابستگی کو اسی نقطہ نظر کی مثال کے طور پر پیش کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ عالمی حکمرانی کی اصلاحات اور شمولیتی ترقی کے فروغ کے لیے چین کی پیش کش انسانی مرکزیت پر مبنی ہے اور اس میں علاقائی یا نظریاتی پابندی قلیل ہے۔کثیرالجہتی طریقہ کار کو محض ایک پالیسی کا اختیار قرار دینے کے بجائے اشد ضروری قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ مشترکہ خوشحالی اور باعزت ترقی کے اصول اس کی بنیاد ہیں۔ پینل نے بیان کیا کہ ایسے اقدامات جو جغرافیائی یا نظریاتی تناظر سے بالا تر ہوں عالمی نمائندگی اور مشروعیت کو مضبوط کریں گے۔شرکاء نے اس امر پر بھی زور دیا کہ نظام میں اعتماد کے خاتمے کی ایک وجہ ویٹو پولیٹکس اور منتخب نوعیت کی شمولیت ہے، جس کے نتیجے میں ثالثی کے روایتی میکنزم کم موثر ہو گئے ہیں۔ اسی لیے مشورہ دیا گیا کہ ثالثی کے عمل کو حفاظتی اور شامل نوعیت کا بنایا جائے تاکہ تنازعات کے بروقت حل ممکن ہو سکیں۔سینٹرل نکتہ یہ تھا کہ ثالثی ایک اجتماعی ذمہ داری ہے اور موجودہ عالمی حقائق کے مطابق اس کے طریق کار کو نئے سرے سے وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ پینل نے اس امر پر زور دیا کہ تنازعات کے ازالہ میں پیشگی اقدامات اور شمولیتی ڈائیلاگ کو فروغ دینا چاہیے تاکہ بعد از وقوع بحران کے بجائے روک تھام ممکن ہو۔اس پروگرام کی قیادت نبيلہ جعفر نے کیں جو چین پروگرام کی سربراہ بھی ہیں۔ شرکاء کے خیالات سے واضح ہوا کہ عالمی امن و استحکام کے لیے مضبوط کثیرالجہتی ادارے اور جدید ثالثی میکنزم نہایت ضروری ہیں تاکہ موجودہ دور میں امن کے شکنجے کو مضبوط کیا جا سکے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے