راولپنڈی کے تھانہ مورگاہ کی کارروائی کے دوران چار ماہ قبل ایک گھر سے طلائی زیورات چرانے کی واردات میں ملوث گھریلو ملازمہ کو اس کے شوہر اور ایک ساتھی کے ہمراہ گرفتار کر لیا گیا۔ تفتیش میں سامنے آیا کہ ملزمہ کام کے بہانے گھر میں داخل ہو کر مالک مکان کو اپنا فرضی نام بتاتی رہی اور اعتماد حاصل کرنے کے بعد زیورات لے کر روپوش ہو گئی۔ یہ واردات عام طرز کی ملازمت کے غرور میں چھپی منصوبہ بندی کے انداز میں سامنے آئی۔پولیس نے تفتیش میں معلوم کیا کہ ملزمہ نے چوری شدہ طلائی زیورات فروخت کر کے مجموعی طور پر 40 لاکھ روپے حاصل کیے تھے جنہیں ضبط کر لیا گیا۔ مورگاہ پولیس نے تکنیکی اور انسانی انٹیلی جنس ذرائع بروئے کار لا کر ملزمہ اور اس کے رشتہ داروں کو حراست میں لیا، اس کارروائی میں طلائی زیورات چوری کا شبکه بے نقاب ہوا۔زیر حراست افراد کے دیگر ساتھیوں اور سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے انجام دیے جانے والے ریڈز جاری ہیں اور پولیس نے واضح کیا ہے کہ مزید گرفتاریوں کے امکانات ہیں۔ تفتیشی عملہ معاملے کے تمام پہلوؤں کو کھنگال رہا ہے تاکہ پورا نیٹ ورک سامنے آ سکے۔ضلع پوٹھوہار کے پولیس افسر طلحہ ولی نے شہریوں سے اپیل کی کہ اپنے گھریلو ملازمین کا اندراج لازمی کروائیں اور اپنے ملازمین کی شناخت و پس منظر کی تصدیق کریں، شہریوں کے جان و مال پر حملہ کرنے والے قانون کی گرفت سے بچ نہیں پائیں گے، راولپنڈی پولیس کے ترجمان نے یہ موقف جاری کیا۔پولیس نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ مشکوک خرید و فروخت یا غیر معمولی طریقوں سے طلائی زیورات کی منتقلی کی معلومات فوراً متعلقہ حکام کو فراہم کریں تاکہ طلائی زیورات چوری اور اس جیسی وارداتوں کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ طلائی زیورات چوری کے خلاف جاری کارروائیاں عوامی تعاون کے ساتھ تیز رکھی جا رہی ہیں۔
