وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک کے درمیان ہونے والی ملاقات میں قومی مضبوطی کے تحت دو ہزار پچیس تا دو ہزار چھبیس کا منصوبہ تیار کرنے پر زور دیا گیا۔ ملاقات میں خصوصاً مون سون دو ہزار چھبیس کے لیے پیشگی تیاری اور قدرتی آفات کے باعث ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کے طریق کار زیر بحث آئے۔وزیرِ ماحولیات نے واضح کیا کہ منصوبہ نتیجہ خیز ہونا چاہیے اور اس کے اہداف انسانوں کی جانوں، بنیادی ڈھانچے، فصلوں اور مویشیوں کے تحفظ کے لیے واضح طور پر وضع کیے جائیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قومی مضبوطی کو ایسے طریقہ کار کے ذریعے عملی جامہ پہنایا جائے جو سب سے زیادہ متاثرہ طبقوں کے لیے فوری اور قابلِ پیمائش فوائد فراہم کرے۔چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے خطرات کی شناخت اور خطہ وار نمونہ جات بنانے کی ضرورت اجاگر کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں سیلاب، بادل پھٹنے، گلیشیئر پگھلاؤ اور گلیشیئر جھیلوں کے سیلاب کے علاوہ زمین کھسکنے کے مناطر مختلف ہیں، اس لیے ہر خطے کے لیے مخصوص تیاری اور ردِعمل کے طریقہ کار وضع کرنا ضروری ہے۔ملاقات میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ موجودہ آفات سے نمٹنے کا نظام منتشر ہے اور اسے ایک مربوط فریم ورک میں یکجا کیا جانا چاہیے تاکہ ردِعمل تیز، مربوط اور مؤثر ہو۔ قومی مضبوطی کے اہداف کے حصول کے لیے مختلف سرکاری اور غیر سرکاری فریقین کو قریب لایا جائے گا تاکہ وسائل اور معلومات کا اشتراک ممکن بنے۔فریقین نے کہا کہ منصوبے کا مقصد صرف منصوبہ بندی نہیں بلکہ عملی نتائج حاصل کرنا ہے تا کہ خطرات کم ہوں اور کمزور قبائل اور کمیونٹیز کو بہتر تحفظ دیا جا سکے۔ حکومتی عہد کا اعادہ کیا گیا کہ این ڈی ایم اے اور متعلقہ ادارے مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت اس قومی منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر نافذ کریں گے۔
