پروفیسر احسن اقبال نے یجنگ انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں پاکستانی طلبہ اور حالیہ فارغ التحصیل نوجوانوں کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ملک کے نوجوان طبقے کی ممکنہ قائدانہ صلاحیت پر زور دیا۔ اس موقع پر وزیر نے نوجوانوں سے براہِ راست مخاطب ہوتے ہوئے اپنی توقعات واضح کیں اور انہیں ملک سازی کے فعال شریک سمجھنے کی تاکید کی۔”نوجوانوں کو محض بطور طالب علم نہیں دیکھتا بلکہ پاکستان کے کل کے معمار، خوابوں کے امین اور ترقی کے علمبردار دیکھتا ہوں” اس بیان میں انہوں نے نوجوانوں کے عہد و عمل کو قوم کی ترقی سے مربوط قرار دیا اور نوجوانوں کو اپنی ذمہ داری قبول کرنے کی ترغیب دی۔ نوجوانوں سے خطاب میں وزیر نے واضح کیا کہ نوجوان معاشرے اور معیشت کی نئی سمت طے کریں گے۔پروفیسر احسن اقبال نے اُڑانِ پاکستان کے وژن کا خاکہ پیش کیا جو پانچ بنیادی ستونوں پر مبنی ہے جن میں برآمدات میں اضافہ، ڈیجیٹل پاکستان کی تشکیل، ماحولیاتی اور غذائی تحفظ، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی اور مساوات، اخلاقیات و بااختیاری کا فروغ شامل ہیں۔ نوجوانوں سے خطاب میں انہوں نے ان ستونوں کی اہمیت بتایا اور کہا کہ یہ شعبے قوم کے مستقبل کا دارومدار ہیں۔”پاکستان آپ سے صرف ڈگریاں نہیں چاہتا، وہ آپ کے خیالات، آپ کی قیادت اور آپ کے نظام کا منتظر ہے” اس پیغام کے ذریعے وزیر نے نوجوانوں کو نصابی کامیابیوں سے آگے نکل کر عملی تبدیلیاں لانے کی ہدایت دی اور کہا کہ معاشرتی اور اقتصادی تبدیلی میں نوجوانوں کا کردار بنیادی ہوگا۔انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ خود کو محض ڈگری حاصل کرنے والا نہ سمجھیں بلکہ ملک کے مستقبل کے مشعل بردار، جدت کے علمبردار اور قیادت کے سفیر بنیں۔ وزیر نے چین کی طویل المدتی منصوبہ بندی اور نظم و ضبط سے سیکھنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ وطن واپسی پر ایسے ماڈلز اور ادارتی ڈھانچے متعارف کرائے جائیں جو پاکستان کو علم اور ہنر پر مبنی معیشت میں تبدیل کر سکیں۔ نوجوانوں سے خطاب میں ان پوائنٹس کو بارہا دہرایا گیا کہ تبدیلی کا انحصار عملی اقدام اور قیادت پر ہے۔مکالمے کے دوران وزیر نے نوجوانوں کو وطن واپسی اور ملک میں اپنا کردار ادا کرنے کی دعوت دی اور اس بات پر زور دیا کہ نوجوان خود اپنے نظریات، اپنی قیادت اور اپنے نظام کو پیش کر کے ملک کی ترقی کے سفر کو تیز کریں۔ نوجوانوں سے خطاب میں یہ واضح پیغام دیا گیا کہ قوم مستقبل کے لیے نوجوانوں کی عملی شمولیت کی منتظر ہے۔
