پیما نے گزشتہ ایک سال میں ریگولیٹری پالیسی کے نفاذ کے بعد ادویات کی قیمتوں میں نمایاں اور تیز اضافہ ریکارڈ ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ادویات کی قیمتیں بڑھنے سے عام مریضوں اور درمیانے درجے کے گھرانوں کے لیے بنیادی علاج تک رسائی مشکل ہو گئی ہے اور ادویہ کے حصول پر عوامی بوجھ میں اضافہ ہوا ہے۔پروفیسر عاطف حفیظ صدیقی، پیما کے سینٹرل صدر نے کہا کہ اس دوران ملک کا صحتی بجٹ پہلے ہی نہایت کم ہے اور مجموعی ملکی پیداوار کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ صحت پر خرچ ہوتا ہے، اس کمی نے ادویات کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ادویات کی قیمتیں اور محدود سرکاری وسائل مل کر عوامی صحت تک رسائی کو محدود کر رہے ہیں۔پیما نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوامی مفاد میں فوری اصلاحی اقدام کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرمایہ کاری اور مقامی پیداوار کی حوصلہ افزائی ضروری ہے لیکن یہ کام مریضوں کی صحت و فلاح کے اخراجات میں اضافے کی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے۔ ادویات کی قیمتیں کنٹرول کرنے کے مؤثر طریقے اور نگران میکانزم مرتب کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔تنظیم نے مطالبہ کیا کہ ریگولیٹری فریم ورک کا جامع جائزہ لیا جائے اور ایسی شفاف پالیسیز متعارف کرائی جائیں جو ملک بھر میں ادویات کی فراہمی اور سستی دستیابی کو یقینی بنائیں۔ پیما کا کہنا ہے کہ مناسب نگرانی، قیمتوں کی نگرانی کے نظام اور عوامی نقطہ نظر کو پیش نظر رکھتے ہوئے فوری اصلاحات سے ہی ادویات کی قیمتوں میں استحکام اور عوامی بھلائی ممکن ہو سکے گی۔
