میڈیکل فیس حد طے مگر خالی نشستیں اور مانگ میں کمی

6 Min Read
نجی طبی اداروں کے لیے سالانہ فیس اٹھارہ لاکھ مقرر، تاہم چار سو سے زائد نشستیں خالی رہنے اور داخلوں میں کمی نے ماڈل کی پائیداری پر سوال اٹھا دیے

فیس کی حد پر اتفاق، مگر خالی نشستیں اور گرتی طلب بڑے سوال بن گئیں

پی ایم ڈی سی–پامی معاہدے سے عدالتی تنازع ختم، نجی میڈیکل تعلیم کے مسائل نمایاں

اسلام آباد — ندیم تنولی

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) اور پاکستان ایسوسی ایشن آف میڈیکل انسٹی ٹیوشنز (PAMI) کے درمیان نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کی سالانہ ٹیوشن فیس 18 لاکھ روپے مقرر کرنے کے معاہدے نے بظاہر والدین کو عارضی ریلیف فراہم کیا ہے، تاہم اس فیصلے نے نجی میڈیکل تعلیم کے شعبے میں موجود گہرے اور دیرینہ ساختی مسائل کو بھی بے نقاب کر دیا ہے، جن میں سب سے سنگین مسئلہ ملک بھر میں سینکڑوں نشستوں کا خالی رہ جانا ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت، ضوابط اور رابطہ کاری کے ارکان پہلے ہی اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ کمیٹی اجلاسوں میں بتایا گیا کہ نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں 400 سے زائد نشستیں خالی پڑی ہیں، حالانکہ داخلوں کے کئی مراحل مکمل ہو چکے ہیں۔ ارکانِ پارلیمنٹ نے سوال اٹھایا کہ آیا بھاری فیسیں، سخت میرٹ پالیسی اور طلبہ کی گرتی ہوئی استطاعت نے نجی اداروں سے رجوع کرنے کا رجحان کم کر دیا ہے۔

اسی پس منظر میں پامی کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں فیس کی حد کے خلاف دائر درخواست اچانک واپس لینے کے فیصلے نے پالیسی اور تعلیمی حلقوں میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ پسپائی محض ریگولیٹری مطابقت نہیں بلکہ خالی نشستوں اور کم ہوتی طلب کے باعث پیدا ہونے والے تجارتی دباؤ کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایم بی بی ایس کے وہ امیدوار جو ماضی میں طلب کی جانے والی بھاری فیس ادا کرنے سے قاصر یا نالاں تھے۔

مشترکہ اعلامیے کے تحت پی ایم ڈی سی اور پامی نے تعلیمی سیشن 2025–26 کے لیے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کی سالانہ ٹیوشن فیس 18 لاکھ روپے مقرر کی ہے، جبکہ فیس میں سالانہ زیادہ سے زیادہ 5 فیصد اضافے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ فیس صرف ٹیوشن تک محدود ہوگی اور اس میں ہاسٹل، ٹرانسپورٹ، یونیورسٹی یا امتحانی فیسیں شامل نہیں ہوں گی۔ پی ایم ڈی سی نے نجی میڈیکل و ڈینٹل کالجز کے لیے ریونیو پر زیادہ سے زیادہ 20 فیصد منافع کی حد بھی مقرر کر دی ہے اور واضح کیا ہے کہ بغیر اجازت مقررہ حد سے زائد فیس وصول کرنا غیر قانونی ہوگا۔

اعلامیے میں یہ گنجائش بھی رکھی گئی ہے کہ کالجز آڈٹ شدہ مالی حسابات، فی طالب علم لاگت کی تفصیلات اور ریگولیٹری منظوری کی بنیاد پر فیس کو زیادہ سے زیادہ 25 لاکھ روپے تک بڑھانے کی مشروط درخواست دے سکتے ہیں۔ تاہم پی ایم ڈی سی کا کہنا ہے کہ اجازت کے بغیر کسی بھی کالج کی جانب سے زائد فیس وصول کرنے پر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

یہ معاہدہ شدید اختلافات کے بعد طے پایا۔ اس سے قبل پامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ فیس کی حد اداروں کی مالی پائیداری کے لیے خطرہ ہے اور اس ضمن میں 32 لاکھ روپے تک فیس مقرر کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ تاہم درخواست کی واپسی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ نجی میڈیکل کالجز بڑی تعداد میں نشستیں پُر کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں، جس سے ان کی مذاکراتی پوزیشن کمزور پڑ گئی۔

والدین اور طلبہ تنظیموں نے فیس کی حد کو دیرینہ مطالبہ قرار دیتے ہوئے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نجی میڈیکل تعلیم متوسط طبقے کے لیے ناقابلِ رسائی ہو چکی تھی۔ ناقدین کے مطابق اگرچہ کالجز نے زیادہ فیس کو تعلیمی معیار سے جوڑا، مگر حقیقت یہ ہے کہ مہنگی نشستیں خالی رہیں، جبکہ متعدد طلبہ مجبوری میں ڈینٹل کی طرف چلے گئے یا میڈیکل کیریئر ہی ترک کر بیٹھے۔

اس کے باوجود اصل چیلنج عملدرآمد کا ہے۔ پارلیمانی ارکان پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ بعض ادارے ممکنہ نقصان پورا کرنے کے لیے ’’چھپی ہوئی فیسوں‘‘ یا ضمنی چارجز کا سہارا لے سکتے ہیں۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی اس معاہدے پر عملدرآمد کی کڑی نگرانی کا عندیہ دے چکی ہے، خاص طور پر خالی نشستوں اور کم ہوتی داخلہ شرح کے تناظر میں۔

اگرچہ پی ایم ڈی سی اور پامی نے طلبہ اور عوامی مفاد میں سختی سے عملدرآمد کا عزم ظاہر کیا ہے، تاہم قانون سازوں کا کہنا ہے کہ اصل امتحان ابھی باقی ہے۔ سینکڑوں نشستوں کے خالی رہنے اور استطاعت کو باضابطہ طور پر رکاوٹ تسلیم کیے جانے کے بعد فیس کی حد کا یہ معاہدہ محض ایک ضابطہ نہیں بلکہ اس سوال کا امتحان بن چکا ہے کہ آیا پاکستان کا نجی میڈیکل تعلیم کا ماڈل مستقبل میں قابلِ عمل بھی رہے گا یا نہیں۔

Copied From: Medical Fee Cap Forces Change in Private Colleges – Peak Point

Read in English: Fee Cap Agreed, but Vacant Seats and Falling Demand Raise Questions as PMDC PAMI Deal Ends Court Battle

Share This Article
ندیم تنولی اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہیں جو پارلیمانی امور، موسمیاتی تبدیلی، گورننس کی شفافیت اور صحت عامہ کے مسائل پر گہرائی سے رپورٹنگ کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔
1 تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے