اسلام آباد میں قائم سنٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (کاس) کے زیر اہتمام ایک کانفرنس میں ماہرین نے پاکستان کے خلاف غلط معلومات اور پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لیے مؤثر اور پیشگی میڈیا حکمت عملی اپنانے پر زور دیا ہے۔ کانفرنس میں کہا گیا کہ موجودہ دور میں میڈیا جنگ کا ایک اہم ہتھیار بن چکا ہے، جس کا استعمال حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں بھرپور انداز میں دیکھنے میں آیا۔
کانفرنس کے آغاز میں ایئر مارشل زاہد محمود (ریٹائرڈ)، سینئر ڈائریکٹر کاس اسلام آباد، نے کہا کہ جدید جنگوں میں میڈیا بنیادی کردار ادا کرتا ہے اور اس کی طاقت سے نہ صرف عوامی رائے بلکہ جنگ کے نتائج بھی متاثر ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف ردعمل دینے کے بجائے پاکستان کو مستقبل کے چیلنجز کی تیاری کے لیے پیشگی اور باقاعدہ میڈیا حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔
ری انر جیاء کے بانی صدر امر زعفر درانی نے بطور کلیدی مقرر کہا کہ معلومات کو ہتھیار بنانے کا رجحان اب فیصلہ کن کردار ادا کر رہا ہے اور اس کا اثر مواد، ترسیل اور شعور کی سطح پر دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ قومی سلامتی کونسل کے ماتحت ایک مشترکہ انفارمیشن آپریشنز کوآرڈی نیشن سیل قائم کیا جائے، جسے مصنوعی ذہانت پر مبنی خصوصی نظام کی حمایت حاصل ہو۔ انہوں نے غیر ملکی اثرات سے بچاؤ کے لیے معلومات کی تصدیق، اوریجن ٹیگنگ اور پری-بنگنگ جیسے اقدامات کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ عوامی آزادی کے تحفظ کے ساتھ ساتھ فوری اور مؤثر پالیسی سازی پر توجہ دی جائے۔ امر زعفر درانی نے ڈیجیٹل خواندگی، خطے میں اتحادیوں کے قیام اور آزمودہ ضابطہ کار کو پاکستان کے لیے معلوماتی استحکام کی بنیاد قرار دیا۔
ایکسپریس نیوز کے اینکر رحمان اظہر نے، اپنے خطاب میں، مئی 2025 میں پاک بھارت کشیدگی میں میڈیا کے کردار کا جائزہ پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا نے انتہا پسند بی جے پی حکومت کے زیر اثر سنسنی پھیلانے اور جھوٹی جیت کے دعوؤں پر انحصار کیا، جبکہ پاکستانی میڈیا نے پیشہ ورانہ طریقہ اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کل بوٹس اور ڈیپ فیکس جیسے ذرائع کی وجہ سے معلوماتی جنگ مزید پیچیدہ ہو گئی ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی میڈیا کو پہلے سے تیاری کرنا ہوگی۔ رحمان اظہر نے اس بات پر زور دیا کہ میڈیا کو محض بحران آنے کے بعد ردعمل دینے کے بجائے، شروع ہی میں درست بیانیہ پیش کرنے میں سرگرم کردار ادا کرنا چاہیے۔
اختتامی خطاب میں صدر کاس، ایئر مارشل جاوید احمد (ریٹائرڈ) نے مقررین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بھارت نے مئی 2025 کی حالیہ کشیدگی میں اپنی بالادستی کے بیانیے کو اجاگر کرنے کے لیے میڈیا میں بھاری سرمایہ کاری کی، مگر پاکستانی فضائیہ کی مؤثر کارروائی اور مسلح افواج کی پیشہ ورانہ بریفنگز نے اطلاعاتی معرکے کا رخ بدل دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تجربہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کے لیے قومی سلامتی کی حکمت عملی میں میڈیا کی تیاری کو باقاعدہ اور مستقل بنیادوں پر شامل کرنا انتہائی ضروری ہے۔
