نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میں مقررین نے مولانا شاہ احمد نورانی کی بے مثال جدوجہد کو تاریخِ اسلام اور پاکستان کا قیمتی سرمایہ قرار دیا۔ ڈاکٹر کرنل محمد سرفراز سیفی کی صدارت میں منعقدہ اس محفل میں سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان، مولانا ملک محبوب الرسول قادری، پروفیسر ڈاکٹر محمد آصف ہزاروی، سید محمد عبداللہ شاہ قادری، پروفیسر محمد جی اے حق چشتی، پروفیسر ڈاکٹر حمزہ مصطفائی، علامہ گلزار حسین نعیمی، علامہ منیر عالم ہزاروی، سابق صدر پریس کلب محمد افضل بٹ، سینیئر صحافی سردار سلطان سکندر، علامہ احمد بخش توگیروی، مولانا قاری عبدالعزیز قادری اور دیگر نے خطاب کیا اور مولانا شاہ احمد نورانی کی ملی، سماجی اور دینی خدمات پر روشنی ڈالی۔
مقررین نے کہا کہ مولانا شاہ احمد نورانی نے تحریکِ ختمِ نبوت اور تحریکِ نظامِ مصطفٰی کے لیے جو خدمات انجام دیں وہ نہ صرف پاکستان بلکہ عالمِ اسلام کے لیے ایک مضبوط اور موثر آواز تھیں۔ ان کے نقشِ قدم اور جدوجہد کو برقرار رکھنے کے لیے سہ ماہی انوارِ رضا نے جوہرآباد کے پلیٹ فارم سے دینی، سیاسی اور سماجی خدمات پر مشتمل کتب و خصوصی ایڈیشن شائع کیے ہیں جو اس علمی ورثے کا اعتراف اور ایک تاریخی دستاویز ہیں۔
تقریب میں بتایا گیا کہ اس سلسلے کے اٹھارہ ایڈیشنز پہلے ہی شائع ہو چکے ہیں اور خصوصی ایڈیشنز میں قومی اخبارات میں شائع رپورٹنگ کو یکجا کر کے محفوظ کیا گیا ہے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے مستند حوالہ برقرار رہے۔ مقررین نے اس امر پر بھی زور دیا کہ اگرچہ الیکٹرانک ذرائع کا دور ہے، مگر پرنٹ میڈیا اور کتاب کا تعلق علم کے تحفظ کے لیے لازمی ہے اور دینی لٹریچر کو محفوظ رکھنے کے لیے کتاب سے رشتہ مضبوط کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
تقریب محض کتب کی رونمائی تک محدود نہ تھی بلکہ یہ مولانا شاہ احمد نورانی کی برسی اور ایصالِ ثواب کا سلسلہ بھی تھا۔ شرکت کرنے والے علما، صحافیوں اور سماجی رہنماؤں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مولانا شاہ احمد نورانی کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں نظامِ مصطفٰی کے نفاذ اور ناموسِ رسالت کے تحفظ کے لیے عملی توفیق عطا فرمائے۔
ایونٹ کے اختتام پر تمام شرکاء کو کتابوں کے تحائف پیش کیے گئے اور پروفیسر خالد جیلانی ٹوانہ، سردار عتیق احمد خان، پروفیسر احمد بخش توگیروی، علامہ گلزار حسین نعیمی اور محمد افضل بٹ کو خبری البم کے تحائف عطا کیے گئے۔ شرکاء نے اس علمی و فکری کاوش کو قدر کی نگاہ سے دیکھا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ مولانا شاہ احمد نورانی کی خدمات کو یادگار رکھنے کے لیے مطالعہ اور اشاعت کو فروغ دیا جائے گا۔
