ماں اور بچوں کی صحت کے لیے تکنیکی اجلاس

newsdesk
2 Min Read
اسلام آباد میں وزارتِ قومی صحت اور اقوامِ متحدہ کے آبادیاتی فنڈ کی مشترکہ میٹنگ میں ماں نوزائیدہ، بچوں اور نوجوانوں کی صحت کا جائزہ لیا گیا

اسلام آباد میں وزارتِ قومی صحت اور اقوامِ متحدہ کے آبادیاتی فنڈ پاکستان کے اشتراک سے مڈوائفری اور ماں، نوزائیدہ، بچوں و نوجوانوں کی صحت سے متعلق سہ ماہی تکنیکی ورکنگ گروپ کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملک بھر میں صحت کے پروگرامز پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور ماں نوزائیدہ کے حوالے سے موجودہ چیلنجز پر بات چیت کی گئی۔اجلاس کی صدارت وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے کی اور شرکاء نے مختلف صوبائی و قومی سطح کے پروگراموں کی ترقی، سرگرمیوں کی رفتار اور نتائج کی جانچ پڑتال پر تبادلۂ خیال کیا۔ ماں نوزائیدہ کی نگہداشت کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مخصوص حکمتِ عملیاں زیرِ غور آئیں۔مڈوائفری خدمات کی مضبوطی اور صحت ورک فورس کی تربیت و استعداد کار بڑھانے کے مسائل اجلاس کے مرکزی مباحثے رہے۔ شرکاء نے پیشہ ورانہ تربیت، سروسز کی دستیابی اور دیہی و دور دراز علاقوں میں مڈوائفری خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے عملی اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا جبکہ تعاون کرنے والے اداروں نے تکنیکی تجاویز اور سہولت کاری کے امکانات پر روشنی ڈالی۔وفاقی وزیرِ صحت نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ “خواتین، بچوں اور نوجوانوں کو معیاری صحت کی سہولیات فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔ حکومت پاکستان بین الاقوامی پارٹنرز کے ساتھ مل کر صحت کے شعبے میں بہتری لانے کے لیے پرعزم ہے۔” اس بیان میں ماں نوزائیدہ کی بہتر نگہداشت کو قومی ترجیحات میں برقرار رکھنے کی واضح عزم کا اظہار سامنے آیا۔اجلاس میں شریک اداروں نے تکنیکی سفارشات اور آئندہ ترجیحات کے لیے اتفاق رائے قائم کیا اور مڈوائفری خدمات کی بہتری کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی مرتب کرنے پر زور دیا گیا تاکہ ماں نوزائیدہ اور بچوں کی صحت کے پروگرامز کا مثبت اثر براہ راست کمیونٹی تک پہنچ سکے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے