لوک میلے کے ساتویں روز کھلے اسٹیج پر کشمیری موسیقی نے زور دار انداز میں جگہ بنائی جہاں دو لاکھ سے زائد شرکاء نے شرکت کی اور ثقافتی ماحول کو بھرپور پذیرائی دی۔ اس موقع پر چینی، پلو، اور دیگر روایتی نغمات کے ساتھ ساتھ کشمیری لوک دھنوں نے حاضرین کو مقامی وادیوں کی یاد دلا دی۔رات کی خاص محفل میں کاوشِ فنکاروں نے مرکزی حیثیت اختیار کی۔ کشمیری نائٹ میں الطاف میر، عاشق حسین بٹ، سہیل عباسی، سید دلاور عباس، نادر خان، ہنا عباسی، شکیل احمد میر، شہزیب حسین، سجاد کشمیری، نتاشہ خان، راجہ عمران، باسط شیخ، نعمان سلیم، بابر پنجکوٹی اور بانو رحمت نے اپنے گانوں اور دھنوں سے محفل کو معنویت دی۔ اس مواقع پر کشمیری موسیقی نے واضح انداز میں اپنا تسلسل اور روایت برقرار رکھی۔موسیقی کو گہرائی دینے میں سازوں کا بڑا حصہ تھا؛ انور علی کی کی بورڈ کی ہم آہنگی، محمد معروف کے طبلہ کے ضربیں، سنی گل کے ڈھولک کے تال اور محمد بدر خان کے رُباب کی دھنوں نے مل کر محفل کو بھرپور رنگ دیا۔ کشمیری موسیقی کی مختلف شاخیں، خصوصاً لوک، پہاڑی، صوفیانہ اور گوجری روایات ایک سنگم کی شکل میں پیش کی گئیں۔حاضرین نے پرفارمنس کے دوران تالیوں اور تعریفی نعرہ زن انداز میں فنکاروں کا خیرمقدم کیا، جبکہ تھیم "رنگوں میں ہم آہنگی اور لوک ورثے کا سنگم” کے تحت ملک کی ثقافتی متنوعیت کو اجاگر کیا گیا۔ دن بھر کے پروگراموں میں دستکاروں کے اسٹالز، روایتی کھانے، کھلونا تھیٹر اور ثقافتی پویلینز شامل تھے جن میں کشمیر پویلین کو خاص پذیرائی ملی جہاں کشمیری کشیدہ کاری، لکڑی کے کاریگری نمونے اور علاقائی ذائقوں کی نمائش دیکھی گئی۔ڈاکٹر محمد وقاص سلیم نے کہا کہ لوک میلہ پاکستان کے زندہ ورثے کو یکجا کرتا ہے اور یہ ثقافتی تنوع ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔لوک میلہ روزانہ صبح دس بجے تا رات دس بجے لوک ورثہ میں جاری رہے گا اور یہ میلہ ۱۶ نومبر ۲۰۲۵ تک عوام کے لیے کھلا رہے گا، جہاں مزید پروگرامز اور ثقافتی مظاہرے متوقع ہیں۔
