کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے مقامی حکومت مضبوط

newsdesk
4 Min Read
خیبر پختونخوا میں کم عمری کی شادی روکنے کے لیے مقامی حکومت کی ادارہ جاتی تربیت اور اصلاحات پر زور، خواتین کمیشن اور متعلقہ اداروں نے مشترکہ حکمتِ عملی طے کی

ایک اہم تقریب میں حکومتی اداروں، سول سوسائٹی اور بین الاقوامی معاون اداروں کے اشتراک سے کم عمری کی شادی کے خاتمے اور بچیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مقامی حکومت کے ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنانے کے اقدامات تیز کر دیے گئے۔ اس موقع پر ڈاکٹر سمیرا شمس چیئرپرسن خیبر پختونخوا خواتین کی حیثیت کمیشن، محکمہ بلدیات، انتخابات و دیہی ترقی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر قاسم، خواتین کمیشن کی رکن ڈاکٹر منہاس اور مختلف سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کم عمری کی شادی کا خاتمہ محض ایک منصوبہ نہیں بلکہ مقامی حکومتوں کی بنیادی ذمہ داری بنائی جائے گی۔ اس سلسلے میں محکمہ بلدیات، انتخابات و دیہی ترقی، اقوامِ متحدہ کے آبادیاتی ادارے اور گروپ ڈیولپمنٹ پاکستان کے اشتراک سے "آواز دو” پروگرام کے تحت ادارہ جاتی اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں تاکہ کم عمری کی شادی کا مستقل اور مؤثر حل ممکن بنایا جا سکے۔ڈاکٹر سمیرا شمس نے کہا کہ کم عمری کی شادی صرف ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ گورننس، سروس ڈیلیوری اور جوابدہی سے جڑا ہوا چیلنج ہے، اور اسی وجہ سے تربیت کو ادارہ جاتی شکل دینا ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مستقل تربیتی ڈھانچے کے ذریعے ہی کارکنان کی تبدیلی کے باوجود تسلسل برقرار رکھا جا سکتا ہے اور قوانین کا یکساں اطلاق ممکن ہوگا۔تقریب میں کہا گیا کہ مقامی حکومت عوام کے لیے پہلا رابطہ نقطہ ہے اور بروقت نشاندہی و روک تھام کے ذریعے بچیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ مقامی سطح پر تربیت، نگرانی اور موثر ریکارڈ کی بدولت کم عمری کی شادی کے واقعات میں کمی لائی جا سکتی ہے اور متاثرہ خاندانوں کو ضروری خدمات پہنچائی جا سکیں گی۔چیئرپرسن نے کمیشن کے قانونی مینڈیٹ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ خیبر پختونخوا خواتین کی حیثیت کمیشن ایکٹ 2016 کے تحت قوانین و پالیسیوں کا جائزہ لیتا، نفاذ میں موجود خلا کی نگرانی کرتا اور حکومت کو اصلاحات کے لیے مشاورت فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کم عمری کی شادی کی روک تھام صرف ایک محکمے کی ذمہ داری نہیں بلکہ مختلف شعبوں اور اداروں کا مشترکہ فریضہ ہے۔کمیٹیوں اور مہمات کے حوالے سے بتایا گیا کہ چائلڈ میرج قانون سازی کمیٹی کی نوٹیفکیشن کی گئی ہے، آئندہ نکاح رجسٹرارز اور مقامی حکومتی اداروں کے ساتھ روابط مضبوط کیے جائیں گے اور کالجوں و یونیورسٹیوں میں بچیوں کو نکاح نامہ سے متعلق آگاہی فراہم کرنے کے لیے مہمات شروع کی جا چکی ہیں۔ کم عمری کی شادی کے خاتمے کو آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل اور مضبوط نظام کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کمیشن نے حکومت، بین الاقوامی اداروں اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر اس مقصد کے لیے کام جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے