لائسنس ختم ہونے کے باوجود اوورسیز ریکروٹرز ایجنسیاں فعال

6 Min Read
قومی اسمبلی میں پیش اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 406 بیرونِ ملک بھرتی ایجنسیاں لائسنس ختم ہونے کے باوجود معتبر درج ہیں، نگرانی سوالات کا مرکز۔

مدت ختم ہونے کے برسوں بعد بھی سینکڑوں اوورسیز ریکروٹرز ’ویلیڈ‘ قرار

ندیم تنولی

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے سوال و جواب کے سیشن کے دوران اوورسیز بھرتی کے نظام میں ایک تشویشناک خلا سامنے آیا ہے۔ سوال نمبر 91، جو رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ کی جانب سے پیش کیا گیا، سے منسلک سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جہاں حکومت بیرونِ ملک افرادی قوت کی ترسیل کو ایک منظم اور شفاف عمل کے طور پر پیش کرتی ہے، وہیں سینکڑوں اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز ایسے ہیں جنہیں لائسنس کی مدت ختم ہونے کے باوجود سرکاری طور پر "ویلیڈ” دکھایا جا رہا ہے۔

وزارتِ اوورسیز پاکستانیز اینڈ ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کے مطابق پاکستان کی بیرونِ ملک افرادی قوت کی پالیسی کا نفاذ بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے ذریعے امیگریشن آرڈیننس 1979 اور امیگریشن رولز 1979 کے تحت کیا جاتا ہے، جس کا مقصد محفوظ، شفاف اور منظم انداز میں افرادی قوت کی برآمد کو یقینی بنانا ہے۔

دستیاب ریکارڈ کے مطابق ڈیٹا سیٹ میں شامل تمام 2,598 مالکان (پروپرائیٹرز) کو "ویلیڈ” ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی ایک کو بھی غیر فعال یا غیر مؤثر قرار نہیں دیا گیا۔ شہر وار تفصیلات کے مطابق راولپنڈی میں 639، کراچی میں 558، اسلام آباد اور لاہور میں 342، 342، مالاکنڈ ریجن میں 284، سیالکوٹ ریجن میں 211، پشاور ریجن میں 126، ملتان میں 66، ڈیرہ غازی خان میں 24، ایبٹ آباد میں 4، کوئٹہ میں 2 اور سکھر میں 1 پروپرائیٹر شامل ہیں۔

تاہم اسی ڈیٹا کی تفصیل ایک سنگین ریگولیٹری مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے۔ 2024 کو بطور حوالہ سال لیا جائے تو کم از کم 406 ایسے پروپرائیٹرز ہیں جن کے لائسنس 2023 یا اس سے پہلے ختم ہو چکے تھے، مگر انہیں اب بھی "ویلیڈ” ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ان میں راولپنڈی 138 کیسز کے ساتھ سرفہرست ہے، جبکہ کراچی میں 86، لاہور میں 53، اسلام آباد میں 52، مالاکنڈ میں 21، پشاور میں 19، سیالکوٹ میں 17، ملتان میں 12، ڈیرہ غازی خان میں 5، ایبٹ آباد میں 2 اور کوئٹہ میں 1 کیس شامل ہے۔

سرکاری دستاوزات کے مطابق 276 ایجنسیوں کے لائسنس 2024 میں ختم ہوئے مگر وہ اب بھی فعال دکھائی دے رہی ہیں۔ 31 کیسز 2023، 4 کیسز 2022، 2 کیسز 2021 اور 16 کیسز 2020 کے ہیں۔ مزید 24 ایجنسیاں 2016 سے 2019 کے درمیان اور 12 ایجنسیاں 2011 سے 2015 کے درمیان ایکسپائر ہو چکی تھیں۔ حیران کن طور پر 41 ایجنسیاں ایسی بھی ہیں جن کے لائسنس 2006 سے 2010 کے درمیان ختم ہو چکے، مگر وہ اب بھی "ویلیڈ” درج ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بعض کیسز ایک دہائی سے زائد عرصے سے درست نہیں کیے گئے۔

اعداد و شمار میں چند نمایاں مثالیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں الحدیث انڈسٹریز (لائسنس نمبر 0021/SKT) جو دسمبر 2007 میں ایکسپائر ہوئی، مگر اب بھی فعال دکھائی دیتی ہے، ہارون ریکروٹنگ ایجنسی (0035/KAR) جس کا لائسنس 2006 میں ختم ہوا، اور الامل کمپنی (0066/RWP) جس کی مدت 2008 میں ختم ہوئی، اس کے باوجود انہیں "ویلیڈ” ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح حمید ریکروٹنگ ایجنسی (0316/RWP) بھی 2006 سے ایکسپائر ہونے کے باوجود فعال فہرست میں شامل ہے۔

یہ تضاد اس لیے بھی اہم ہے کہ وزارت کی جانب سے قومی اسمبلی میں دیے گئے جواب میں بھرتی کے نظام کو شفاف، جوابدہ اور منظم قرار دیا گیا۔ بیان کے مطابق بیورو بھرتی کے عمل کی نگرانی کرتا ہے، بیرونِ ملک جانے والے افراد کے لیے پروٹیکٹر آف ایمیگرنٹس کی منظوری لازمی ہے، ملازمت کے معاہدوں کی تصدیق کی جاتی ہے، انشورنس فراہم کی جاتی ہے اور ای-پروٹیکٹر سسٹم سمیت متعدد سہولیات متعارف کرائی گئی ہیں۔

تاہم سرکاری مؤقف اور دستیاب ڈیٹا کے درمیان یہ واضح فرق کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے: کیا لائسنس کی تجدید بروقت ہو رہی ہے؟ کیا عوام کے لیے دستیاب ریکارڈ حقیقی قانونی حیثیت کی عکاسی کرتا ہے؟ اور کیا بیرونِ ملک جانے والے افراد بااعتماد طور پر مستند اور غیر مستند ایجنسیوں میں فرق کر سکتے ہیں؟

قومی اسمبلی کا یہ سوال بنیادی طور پر اوورسیز لیبر پالیسی اور ایمپلائمنٹ پروموٹرز کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے اٹھایا گیا تھا، مگر اس کے ساتھ منسلک ڈیٹا نے ایک بڑے ریگولیٹری خلا کو بے نقاب کر دیا ہے—ایسا نظام جہاں سینکڑوں کیسز میں لائسنس کی حیثیت اور ان کی میعاد میں واضح تضاد موجود ہے۔

جب تک وزارت یا بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ اس حوالے سے تفصیلی وضاحت فراہم نہیں کرتے، یہ اعداد و شمار اس بات پر سوالات اٹھاتے رہیں گے کہ آیا پاکستان کا اوورسیز بھرتی نظام واقعی اسی معیار کی نگرانی کے تحت چل رہا ہے جس کی تارکین وطن کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔

Share This Article
ندیم تنولی اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہیں جو پارلیمانی امور، موسمیاتی تبدیلی، گورننس کی شفافیت اور صحت عامہ کے مسائل پر گہرائی سے رپورٹنگ کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے