رہنماؤں کی سادگی قوم کی طاقت

newsdesk
5 Min Read
رہنماؤں کی سادگی اور احتساب قوم میں اعتماد بحال کرتے ہیں، تاریخی اور معاصر مثالیں حکمرانی میں شفافیت کا تقاضا کرتی ہیں

ہے سادگی کا مقام اونچا
تحریر: ظہیر احمد اعوان
دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ قوموں کی اصل طاقت ان کی قیادت کے کردار میں ہوتی ہے۔ جب حکمران خود سادگی، دیانت اور قربانی کی عملی مثال بن جائیں تو قومیں مشکلات کے باوجود ترقی کی منازل طے کر لیتی ہیں، لیکن جب قیادت آسائشوں کو ترجیح دے کر عوام سے قربانی مانگے تو اعتماد کی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ اگر ہم اپنی تاریخ اور اپنی تہذیب کی طرف دیکھیں تو سب سے اعلیٰ مثال ہمیں سیرتِ طیبہ میں ملتی ہے۔ ہمارے پیارے رسول ﷺ حضرت محمد ﷺ نے اختیار اور اقتدار ہونے کے باوجود نہایت سادہ زندگی گزاری۔ آپ ﷺ کا گھرانہ قناعت اور سادگی کا پیکر تھا، کئی کئی دن چولہا نہ جلتا مگر عدل، دیانت اور خدمتِ خلق میں کوئی کمی نہ آتی۔ یہی عملی نمونہ تھا جس نے دلوں کو مسخر کیا اور معاشرے کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔ اسی طرح خلفائے راشدینؓ کی زندگیاں سادگی، احتساب اور عوامی خدمت کی روشن مثال ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے خلافت سنبھالنے کے بعد بھی سادہ طرزِ زندگی اختیار کیے رکھا۔ حضرت عمر فاروقؓ کا وہ تاریخی واقعہ آج بھی یاد کیا جاتا ہے جب انہوں نے بیت المال سے لی گئی چادر کا بھی حساب دیا۔حضرت عثمان غنیؓ اور حضرت علی المرتضیٰؓ کی زندگیوں میں بھی قناعت، دیانت اور جواب دہی نمایاں نظر آتی ہے۔ یہ وہ قیادت تھی جس نے پہلے خود قربانی دی، پھر عوام سے قربانی کی توقع کی اور قوم نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔اسلامی تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ حکمران کی سادگی عوام کے دلوں میں اعتماد پیدا کرتی ہے اور جب قیادت خود احتسابی کا معیار قائم کرے تو ریاست مضبوط ہوتی ہے۔ اگر ہم دنیا کی مثالیں دیکھیں تو وہاں بھی یہی اصول کارفرما نظر آتا ہے۔ بنگلہ دیش میں ڈاکٹر محمد یونس نے مختصر مدت میں معاشی بہتری کی مثال پیش کی اور زرِمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کیا، جس سے عالمی اعتماد بحال ہوا۔ بھارت کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے اقتدار سنبھالتے ہی اپنی کابینہ کو سادہ طرزِ زندگی اپنانے کی تلقین کی اور نمود و نمائش سے گریز کو فروغ دیا تاکہ حکمران اور عوام کے درمیان فاصلہ کم رہے۔ دوسری جانب پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار میں آنے کے بعد آٹھ نشستوں کا ایک سرکاری جہاز خریدا جس کا عوام پر گہرا اثر ہوا۔ بعد ازاں جب ان کا اقتدار ختم ہوا تو ان کا خریدا گیا فیلکن جہاز پی آئی اے کے فلیٹ میں شامل کر دیا گیا۔ یہ مثال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومتی فیصلے عوامی رائے سے بالاتر نہیں ہوتے اور وقت کے ساتھ ان کا احتساب بھی ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں سرکاری طیارے اور دیگر سہولتیں موجود ہوتی ہیں مگر وہاں پہلے عوام کی بنیادی ضروریات، یعنی تعلیم، صحت اور روزگار کو ترجیح دی جاتی ہے۔ سادگی محض اخلاقی وصف نہیں بلکہ کامیاب حکمرانی کی حکمتِ عملی بھی ہے۔ جب حکمران اپنے اخراجات کم کرتے ہیں تو وہ عوام کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ مشکل وقت میں سب برابر کے شریک ہیں۔ آج پاکستان میں مسئلہ صرف ایک جہاز یا ایک فیصلے کا نہیں بلکہ ترجیحات کا ہے۔ جب عوام مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کی کمی کا شکار ہوں تو حکمرانوں کی شاہانہ طرزِ زندگی احساسِ محرومی کو بڑھاتی ہے۔ ریاستیں طاقت سے نہیں بلکہ اعتماد سے چلتی ہیں اور اعتماد تب قائم ہوتا ہے جب قیادت خود مثال بنے۔ عوام سے قربانی مانگنے والوں کو پہلے خود قربانی دینا ہوگی، تبھی وہ عوام سے قربانی کی توقع رکھ سکتے ہیں۔ اگر حکمران سادگی اختیار کریں گے تو قوم بھی مشکل فیصلوں میں ان کا ساتھ دے گی، بصورتِ دیگر عوام کے دلوں میں سوالات بڑھتے جائیں گے اور فاصلے وسیع ہوتے جائیں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ قیادت اپنی ترجیحات کا ازسرِنو جائزہ لے، شفافیت کو یقینی بنائے اور قومی وسائل کو سب سے پہلے عوام کی فلاح پر خرچ کرے، کیونکہ یہی راستہ اعتماد، استحکام اور ترقی کی ضمانت ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے