کچہری چوک منصوبہ: وکلا نے معاہدے کی پاسداری کا مطالبہ کر دیا، چیمبرز گرانے پر سخت ردعمل کا عندیہ
راولپنڈی — سابق ممبر پنجاب بار کونسل اسد عباسی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کچہری چوک منصوبے کے ابتدائی پلان اور ضلعی بار کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر مکمل عملدرآمد کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلا عوامی مفاد کے کسی منصوبے کے خلاف نہیں ہیں، تاہم وہ اپنے چیمبرز کے تحفظ سے ہرگز دستبردار نہیں ہوں گے۔
اسد عباسی نے اپنے بیان میں کہا کہ وکلا نے قومی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے رضاکارانہ طور پر اپنے چیمبرز کا کچھ حصہ منصوبے کے لیے دیا، لیکن اب اس جذبے کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کچہری کی حدود سے مزید زمین لینے کی کوشش نہ کی جائے، کیونکہ سڑک کی دوسری جانب کھلی جگہ دستیاب ہے جسے منصوبے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وکلا کے تحفظات کو فوری طور پر دور کیا جائے، بصورت دیگر وکلا قانونی چارہ جوئی اور احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وکلا چیمبرز کو زبردستی گرایا گیا تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تمام مسائل کی ذمہ داری ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔
اسد عباسی نے انتظامیہ کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ وکلا نے ہمیشہ عوامی مفاد کے منصوبوں میں تعاون کیا، لیکن اپنے پیشہ ورانہ وجود پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ کچہری چوک پراجیکٹ میں شفافیت، اعتماد اور طے شدہ وعدوں کی پاسداری کو یقینی بنایا جائے تاکہ تنازعات پیدا نہ ہوں۔
