لاہور ایئرپورٹ کی توسیع میں جدید شمسی ٹیکنالوجی کا استعمال، لانگی کے ہائی مو ایکس 10 ماڈیولز کا انتخاب

newsdesk
3 Min Read
الامہ اقبال بین الاقوامی ہوائی اڈے کی ٹرمینل توسیع میں ہائی مو ایکس دس سے ایک میگا واٹ سولر تنصیب، حفاظت، جمالیات اور دیرپا قابل اعتماد حل حاصل کیا جائے گا

لاہور: پاکستان میں صاف اور پائیدار توانائی کے فروغ کے ساتھ اہم قومی انفراسٹرکچر میں بھی جدید شمسی ٹیکنالوجی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اسی سلسلے میں علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور کی توسیعی منصوبہ بندی کے تحت ایک میگا پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ایک میگاواٹ شمسی نظام کی تنصیب کے لیے لانگی کے ہائی مو ایکس 10 ماڈیولز کا انتخاب کیا گیا ہے۔

یہ منصوبہ آئندہ دو سے تین ماہ میں شروع ہونے کی توقع ہے اور پاکستان کے کسی بڑے ایئرپورٹ پر شمسی توانائی کے استعمال کا یہ پہلا منصوبہ ہوگا۔ ابتدائی مرحلے میں ایک میگاواٹ کا نظام نہ صرف توانائی کی پیداوار کا ذریعہ ہوگا بلکہ یہ جدید قابل تجدید ٹیکنالوجی کو قومی سطح کے اہم ترین ٹرانسپورٹ مرکز میں شامل کرنے کی ایک اہم مثال بھی ہے۔

ایئرپورٹس کو ایسے انفراسٹرکچر کی ضرورت ہوتی ہے جو اعلیٰ ترین حفاظتی معیارات، طویل المدتی کارکردگی اور جدید طرز تعمیر سے ہم آہنگ ہو۔ علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ، جو ہر سال لاکھوں مسافروں کی آمدورفت کا مرکز ہے، پاکستان کا عالمی سطح پر ایک اہم تعارف بھی ہے۔ اسی لیے اس منصوبے کے لیے ایسی ٹیکنالوجی کا انتخاب کیا گیا جو حفاظت، پائیداری اور خوبصورتی کے تمام تقاضے پورے کرے۔

لانگی کے ہائی مو ایکس 10 ماڈیولز جدید بیک کانٹیکٹ ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں اور اپنی اعلیٰ کارکردگی، مضبوط ساخت، کم چمک پیدا کرنے والی خصوصیات اور تیس سال تک قابلِ اعتماد توانائی فراہم کرنے کی صلاحیت کے باعث نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ ان ماڈیولز کی خاص بات ان کا مکمل سیاہ ڈیزائن بھی ہے جو جدید طرز تعمیر کے ساتھ ہم آہنگ رہتے ہوئے ایئرپورٹ کی خوبصورتی کو برقرار رکھتا ہے۔

مزید برآں، یہ ماڈیولز جزوی سایہ ہونے کی صورت میں بھی بہتر کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو ایئرپورٹ جیسے پیچیدہ ماحول میں نہایت اہم ہے جہاں مختلف ڈھانچے اور سرگرمیاں روشنی پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

یہ منصوبہ مستقبل میں توسیع کی گنجائش بھی رکھتا ہے جس کے تحت ضرورت کے مطابق مزید شمسی صلاحیت شامل کی جا سکے گی۔ اس اقدام سے نہ صرف ایئرپورٹ کے توانائی کے اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ ماحول دوست پالیسیوں کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔

ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان میں جدید شمسی توانائی کے استعمال کا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا اور دیگر قومی منصوبوں کے لیے بھی ایک مثال قائم کرے گا، جہاں حفاظت، کارکردگی اور پائیداری کو یکجا کرتے ہوئے مستقبل کی توانائی ضروریات کو پورا کیا جا سکے گا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے