لیبر فورس سروے ۲۰۲۴–۲۵ میں اہم پیش رفت

newsdesk
3 Min Read
حکومت نے لیبر فورس سروے ۲۰۲۴–۲۵ جاری کیا، بین الاقوامی معیار اپنانے سے ملازمت، خواتین کی شرکت اور بیروزگاری کے شفاف اعداد سامنے آئے

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے لیبر فورس سروے ۲۰۲۴–۲۵ کی رونمائی کرتے ہوئے اس سروے کو ملکی معیشت کے لئے ایک سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سروے نے ملازمت، اجرت، شعبہ جاتی تقسیم، خواتین کی شرکت، کاروباری سرگرمیوں اور غیر معاوضہ دیکھ بھال کے کاموں کے بارے میں جامع اور شفاف معلومات فراہم کی ہیں۔ اس نئے اطلاق سے لیبر فورس سروے کے اعداد و شمار بین الاقوامی معیار کے مطابق قابلِ موازنہ اور معتبر ہو گئے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق لیبر مارکیٹ کے حجم میں واضح اضافہ درج کیا گیا ہے۔ لیبر فورس کی تعداد ۷۱٫۸ ملین سے بڑھ کر ۸۳٫۱ ملین ہوئی، جو کہ ۱۱٫۳ ملین کا اضافہ ہے۔ ملازمت یافتہ افراد کی تعداد ۶۷٫۳ ملین سے بڑھ کر ۷۷٫۲ ملین تک پہنچی، یعنی ۹٫۹ ملین کا اضافہ ہوا۔ بیروزگار افراد ۴٫۵ ملین سے بڑھ کر ۵٫۹ ملین ہوئے، یعنی ۱٫۴ ملین اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو دونوں معیار کے مطابق شمار کیا گیا۔ یہ نمائش لیبر فورس سروے کی شمولیت اور جامعیت کا عکاس ہے۔لیبر فورس سروے کے نتیجے میں لیبر مارکیٹ کے کل اشاریوں میں بھی تبدیلیاں آئیں۔ لیبر فورس کی شرکت کی شرح ۴۴٫۹٪ سے بڑھ کر ۴۶٫۳٪ ہو گئی جبکہ ملازمت کے لحاظ سے آبادی کا تناسب ۴۲٫۱٪ سے بڑھ کر ۴۳٫۰٪ ریکارڈ ہوا۔ بیروزگاری کی شرح میں اضافہ بھی سامنے آیا اور یہ ۶٫۳٪ سے بڑھ کر ۷٫۱٪ تک پہنچ گئی۔ یہ اعداد نوجوانوں اور خواتین کے روزگار کے نئے مواقع اور چیلنجز دونوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور پالیسی سازوں، کاروباری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے لئے عملی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔سرکاری نمائندوں نے واضح کیا کہ بین الاقوامی معیار ۱۹ کو اپنانے کے بعد پرانے اور نئے معیار دونوں کے تحت نتائج شائع کرنے سے شفافیت میں اضافہ ہوا ہے اور رجحانات کی درست تشریح ممکن ہوئی ہے۔ پالیسی سازی، تحقیقی تجزیہ اور میڈیا رپورٹنگ کے لئے یہ اعداد و شمار زیادہ قابلِ اعتماد ذرائع بن گئے ہیں جو مستقبل میں ملازمت اور سماجی پالیسیاں ترتیب دینے میں مدد دیں گے۔ لیبر فورس سروے نے ملک بھر میں محنت کش طبقے کی صورتحال اور خواتین کی معاشی شرکت کے حوالے سے واضح نقشہ فراہم کر دیا ہے، جس سے متعلقہ حکمتِ عملیاں مرتب کرنے میں آسانی متوقع ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے