خیبر پختونخواہ میں پہلی صوبائی میڈیا فیلوشپ کا آغاز

newsdesk
3 Min Read
پشاور یونیورسٹی میں پہلی صوبائی میڈیا فیلوشپ کا افتتاح؛ ذمہ دار رپورٹنگ، صنفی تشدد اور کم عمری کی شادی کے خلاف شعور بڑھانے پر زور

پشاور یونیورسٹی کے سرِ صاحبزادہ عبدالقیوم آڈیٹوریم میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں صوبائی میڈیا فیلوشپ کا باقاعدہ آغاز ہوا جس کا مقصد ذمہ دار رپورٹنگ، درست نمائندگی اور صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف مضبوط بیانیہ قائم کرنا ہے۔ اس تقریب میں وائس چانسلر پشاور یونیورسٹی، محکمۂ سماجی فلاح و بہبود، اقوامِ متحدہ کے آبادیاتی ادارے کے نمائندے، مختلف سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے نمائندے، یونیورسٹی کے اساتذہ، میڈیا کے نمائندے اور انسانی حقوق کے علمبردار شریک ہوئے۔خیبر پختونخواہ کمیشن برائے وقارِ نسواں کی چیئرپرسن نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ میڈیا سماجی تبدیلی کا اہم شریک ہے اور ہر سرخی، ہر تصویر اور ہر لفظ کا معاشرتی اثر غیر معمولی ہوتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی میڈیا فیلوشپ کا بنیادی ہدف صنفی بنیاد پر تشدد اور کم عمری کی شادی جیسے حساس موضوعات پر شواہد پر مبنی اور باوقار رپورٹنگ کو فروغ دینا ہے۔چیئرپرسن نے بتایا کہ کم عمری کی شادی کو کمیشن نے اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیا ہے اور متاثرین کو بروقت، باوقار اور مؤثر سہولیات فراہم کرنے کے لیے ضلعی سطح پر متعلقہ اداروں کو فعال کیا جا رہا ہے تاکہ متاثرہ افراد تک تحفظ اور امداد پہنچائی جا سکے۔ انہوں نے صحافیوں کو تربیت، فنی رہنمائی اور شواہد پر مبنی وکالت میں سہولت دینے کا عزم بھی ظاہر کیا تاکہ رپورٹنگ آگاہی سے عملی اقدام تک منتقل ہو سکے۔تقریب میں یہ بھی زور دیا گیا کہ صحافی اور میڈیا فیلوز روایتی خبروں کے ساتھ ساتھ سیاست میں خواتین کو درپیش بڑھتے ہوئے آن لائن استحصال اور آن لائن خطرات کو بھی نمایاں کریں تاکہ عوامی سطح پر شعور بیدار ہو اور مؤثر پالیسی ساز اقدامات کو تقویت ملے۔ صوبائی میڈیا فیلوشپ کے شرکا کو موقع دیا جائے گا کہ وہ اپنے تحقیقی اور رپورٹرانہ کام کے ذریعے معاشرتی رویوں میں تبدیلی لانے میں مددگار ثابت ہوں۔مقررین نے کہا کہ میڈیا کے ذریعہ دکھائی گئی ہر حقیقت معاشرے کے نظریے اور عمل پر اثر انداز ہوتی ہے، اس لیے ذمہ دارانہ رپورٹنگ زندگیاں بچانے اور کمزوریوں کو دور کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ صحافیوں کو شواہد کی بنیاد پر رپورٹنگ کرنے اور متاثرین کے وقار کا احترام رکھنے کی واضح ہدایات دی گئیں تاکہ رپورٹنگ میں حسِ انسانی برقرار رہے۔تقریب کے اختتام پر معزز مہمانانِ گرامی کو اعزازی یادگاری تمغے پیش کیے گئے جن کے ذریعے اُن کی شرکت اور تعاون کا اعتراف کیا گیا۔ آئندہ کے پروگرامز میں صوبائی میڈیا فیلوشپ شرکا کو مسلسل تربیت اور تکنیکی معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ یہ اقدام مستقل اثرات کا حامل بن سکے اور صوبائی میڈیا فیلوشپ کے ذریعے سماجی انصاف اور خواتین کے حقوق کی مضبوطی ممکن بنائی جا سکے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے