سیکرٹری محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات جنید خان کی زیرِ صدارت منعقدہ اجلاس میں فاریسٹ ڈیویلپمنٹ کارپوریشن خیبر پختونخوا کی مجموعی کارکردگی، انتظامی امور اور مستقبل کی حکمتِ عملی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ادارے کے نظامِ کار، ٹمبر ڈپوز کی صورتحال، لکڑی کی ذخیرہ اندوزی اور منتقلی کے طریقہ کار پر غور کیا گیا تاکہ وسائل کے ضیاع اور غیر قانونی سرگرمیوں کا سدِ باب ممکن بنایا جا سکے۔احمد زیب، منیجنگ ڈائریکٹر فاریسٹ ڈیویلپمنٹ نے موجودہ سرگرمیوں اور انتظامی عمل کے بارے میں مفصل بریفنگ دی۔ انہوں نے صوبے بھر کے ٹمبر ڈپوز کی صورتحال، لکڑی کی اسٹاکنگ اور ترسیل کے عمل میں درپیش مسائل کی نشاندہی کی اور خاص طور پر ان درختوں کی جانب توجہ مبذول کرائی جو موسمیاتی تبدیلی، شدید بارشوں اور تیز ہواؤں کی وجہ سے جنگلات سے گر چکے ہیں اور جن کی بروقت نگرانی اور مناسب انتظام اشد ضروری ہے۔اجلاس میں فاریسٹ ڈیویلپمنٹ کے شعبے کی شفافیت اور جوابدہی کو اولین ترجیح قرار دیا گیا اور ہدایت کی گئی کہ مانیٹرنگ سیکشن کو فعال بنایا جائے تاکہ ٹمبر ڈپوز میں موجود لکڑی، خصوصاً موسمیاتی اثرات سے گرے ہوئے درختوں کی جامع نگرانی ممکن ہو سکے۔ اس سے نہ صرف وسائل کی بربادی روکی جائے گی بلکہ غیر قانونی کٹائی اور اسمگلنگ جیسے معاملات پر بھی قابو پایا جا سکے گا۔فاریسٹ ڈیویلپمنٹ کے مستقبل کے لائحہ عمل، اصلاحاتی اقدامات اور پائیدار حکمتِ عملی پر مشتمل ایک جامع کیس جلد صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا اور کابینہ کے فیصلوں پر پوری شفافیت اور ان کی روح کے مطابق عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ جنید خان نے جنگلات کو محض لکڑی کا ذریعہ نہیں بلکہ ماحولیاتی توازن، موسمیاتی استحکام اور حیاتیاتی تنوع کے لیے بنیادی اثاثہ قرار دیا۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ فاریسٹ ڈیویلپمنٹ کارپوریشن کو شفافیت، جوابدہی اور پائیدار ترقی کے اصولوں کے تحت مزید مؤثر اور فعال بنایا جائے گا تاکہ خیبر پختونخوا کے جنگلات نہ صرف موجودہ بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی محفوظ رہ سکیں۔ اس منصوبہ بندی میں مقامی انتظامی اصلاحات اور مانیٹرنگ کے جدید طریقے شامل کرنے کی منظوری بھی زیر غور رہی۔
