اسلام آباد: اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام اور کشف فاؤنڈیشن نے مشترکہ طور پر "خوشحال مستقبل تکافل” کے نام سے شریعہ کے مطابق مائیکرو پنشن اسکیم متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، جو خیبر پختونخوا میں کم آمدنی والی خواتین کاروباری افراد کے لیے شروع کی جا رہی ہے۔
پاکستان کی غیر رسمی معیشت میں کام کرنے والے افراد کی بڑی تعداد مالی تحفظ سے محروم ہے، جہاں محض 10 سے 12 فیصد افرادی قوت کو پنشن کی سہولت حاصل ہے۔ اس صورتحال میں کم آمدنی والی خواتین کو شدید مالی عدم تحفظ کا سامنا ہے۔ "خوشحال مستقبل تکافل” اسکیم اسی خلا کو پر کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے، جس میں خواتین کو لچکدار جمع کرانے کی سہولت، ہنگامی حالات میں فنڈ تک رسائی اور خاندان کے لیے بنیادی انشورنس تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
یہ اقدام اقوامِ متحدہ کے انشورنس و رسک فنانس سہولت پروگرام کے تحت کیا جا رہا ہے، جو 23 ممالک میں جدت پر مبنی منصوبوں کی حمایت کر رہا ہے۔ پاکستان میں پہلی بار اس نوعیت کا منصوبہ متعارف کرایا گیا ہے جس کا مقصد آفات کے خطرات اور مالی تحفظ کے شعبے میں جدت لانا ہے۔
اقوامِ متحدہ ترقیاتی پروگرام پاکستان کے نمائندہ ڈاکٹر سیموئیل رزق نے کہا کہ یہ شراکت داری پاکستان میں جامع انشورنس کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ان کے مطابق اس اسکیم کے ذریعے خیبر پختونخوا میں خواتین کاروباری افراد کو معاشی اور موسمیاتی جھٹکوں سے نمٹنے کی صلاحیت حاصل ہوگی، جبکہ نجی شعبے کی جدت کو بھی فروغ ملے گا۔
یہ پروگرام جوبلی لائف انشورنس کے اشتراک سے نافذ کیا جا رہا ہے اور اس کے تحت خیبر پختونخوا کے دس اضلاع میں اس اسکیم کو مرحلہ وار متعارف کرایا جائے گا۔ منصوبے کا ہدف 2026 تک 39 ہزار خواتین تک مالی آگاہی پہنچانا اور 15 ہزار خواتین کو اس اسکیم میں شامل کرنا ہے۔
کشف فاؤنڈیشن کی بانی و منیجنگ ڈائریکٹر روشنہ ظفر نے کہا کہ جب ایک خاتون کماتی ہے تو وہ اپنے خاندان کو سہارا دیتی ہے اور جب وہ مستقبل کی منصوبہ بندی کرتی ہے تو وہ اپنی زندگی بدل دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسکیم خواتین کو بچت، تحفظ اور مالی خودمختاری کی راہ فراہم کرے گی۔
اس شراکت داری کے ذریعے اقوامِ متحدہ ترقیاتی پروگرام اور کشف فاؤنڈیشن کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ کم وسائل رکھنے والی خواتین کے لیے مؤثر مالی تحفظ نہ صرف ممکن ہے بلکہ اسے وسیع پیمانے پر نافذ بھی کیا جا سکتا ہے۔ خیبر پختونخوا سے حاصل ہونے والے تجربات کو مستقبل میں دیگر علاقوں تک توسیع کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
