اسلام آباد میں ایک سیمینار میں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ قضیہ کشمیر آج بھی بین الاقوامی طور پر قانونی اعتبار سے باقاعدہ اور قابلِ عمل مرحلہ رکھتا ہے اور اس کی بنیاد اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے فیصلات پر ہے۔ اس موقع پر یہ بھی کہا گیا کہ عالمی طاقتوں کے عدم توازن نے مسئلے کے حل میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں اور اسی وجہ سے اب نوجوانوں پر اس مقدمے کو آگے بڑھانے کی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔سردار مسعود خان نے طلبا کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ موجودہ نوجوان نسل خاص طور پر سوشل میڈیا کی بدولت معلومات اور اظہارِ خیال کے بے مثال ذرائع تک رسائی رکھتی ہے، اور اسی وجہ سے انہیں قضیہ کشمیر کو مختلف سطحوں پر نمایاں کرنے کی ذمہ داری اٹھانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان خود کو قوم کے معمار سمجھیں اور اپنی امنگوں کو پاکستان کے نظریاتی اصولوں کے ساتھ مربوط کریں۔ سابق صدر نے پرانی نسلوں کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ یہ فریضہ اب نئی نسل کے کندھوں پر منتقل ہو چکا ہے اور پاکستانی اور کشمیری ایک ہی وجود ہیں جنہیں بھائی چارے کے نظریے نے جوڑا ہوا ہے۔ مئی 2025 کے واقعات نے اس اجتماعی عزم کو مزید تقویت دی ہے۔ڈاکٹر ولید رسول نے ایک تاریخی تناظر میں بتایا کہ 5 جنوری 1949 وہ مقام ہے جب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے واضح طور پر جموں و کشمیر کے عوام کو اپنی سیاسی ترجیحات خود مقرر کرنے کے حق کا اعتراف کیا اور آزاد اور غیر جانبدار ریفرنڈم کا تصور پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلے باہر سے مسلط نہیں کیے گئے بلکہ اس وقت بھارت نے خود اقوامِ متحدہ سے رجوع کیا، جس کا مطلب ہے کہ مسئلہ کا حتمی حل ابھی تک طے نہیں ہوا۔ گزشتہ سات دہائیوں میں اقوامِ متحدہ کے فریم ورک پر عمل درآمد نہ ہونے کی بڑی وجہ عالمی طاقتوں کے مفادات اور طاقت کے عدم توازن کو قرار دیا گیا، اور اس ناکامی نے بین الاقوامی قانون کے انتخابی اطلاق کا پردہ فاش کیا ہے۔عمیر پرویز نے کہا کہ قضیہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے کیونکہ یہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت سے متعلق ہے، جسے متعدد اقوامِ متحدہ کے قراردادوں نے تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں پر امن خودارادیت کی تحریکوں سے سبق لیا جا سکتا ہے، جیسے آئرلینڈ اور اسکاٹ لینڈ، وہاں کشمیری حقائق میں بھارتی نوآبادیاتی کنٹرول کی وجہ سے جدوجہد کو بےوجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسی مناسبت سے جب حقوق کی خلاف ورزیاں تسلسل کے ساتھ جاری رہیں تو اس سے بھارت کی بین الاقوامی ساکھ متاثر ہوتی ہے اور اسی طرح کشمیری مطالبے کی جوازیت میں مزید تقویت آتی ہے۔خالد رحمان نے اپنے نتیجہ خیز کلمات میں عالمی نظام کے بدلتے ہوئے ڈھانچے کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ وہ قوتیں جو اپنے ہدفی معاشروں کو سمجھانے میں ناکام رہتی ہیں، اکثر کنفیوژن اور افراتفری پھیلانے کے راستے اختیار کرتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کسی بھی مقصد کے حصول کے لیے صبر، عملی اور دوررس حکمتِ عملی درکار ہے، مگر واضح مقصدیت اور مختلف طریقہ کار اپنانے کی ضرورت بھی اتنی ہی اہم ہے۔سِمَنار میں مختلف شعبوں کے ماہرین، سفارت کار اور یونیورسٹی کے طلبا کے درمیان بین النسلی تبادلۂ خیال نے اس امر کی نشاندہی کی کہ قضیہ کشمیر نہ صرف ایک قانونی اور سیاسی معاملہ ہے بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ مقررین نے بارہا کہا کہ نوجوان نسل کو اپنی بصیرت اور وسائل کو کام میں لا کر قضیہ کشمیر کی قانونی حیثیت اور عوامی حقِ خودارادیت کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا چاہیے۔مجموعی طور پر شرکاء نے اس نتیجے پر زور دیا کہ قضیہ کشمیر کی قانونی صداقت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا اور اس کے حل کے لیے نوجوانوں کی سرگرمی، نظریاتی وابستگی اور طویل المدتی حکمتِ عملی کلیدی کردار ادا کرے گی۔
