کشمیری تصاویر کا دوسرا عالمی مجموعہ نمائش میں پیش

newsdesk
3 Min Read
بیلجیئم فوٹوگرافر سیڈرک گربے کی کشمیری تصاویر پر مبنی کتاب اور نمائش پاکستان قومی کونسل برائے فنونِ لطیفہ میں عوام کے لیے جاری۔

اسلام آباد میں پاکستان قومی کونسل برائے فنونِ لطیفہ کے ہال میں بیلجیئم کے دستاویزی فوٹوگرافر سیڈرک گربے کی کتاب اور تصویری نمائش کا افتتاح ہوا جو کشمیری زندگی اور یادداشتوں پر مبنی ہے۔ نمائش کا اہتمام پاکستان فوٹو فیسٹیول نے کیا جبکہ اس میں کشمیری امور اور ثقافتی مکالمے کے لیے سر گرم ادارہ کشمیر کونسل برائے یورپی یونین بھی شریک ہے۔افتتاحی تقریب میں یورپی یونین کی پاکستانی مندوبہ محترمہ طاہرہ اورنگزیب، پارلیمانی سیکرٹری فرحہ ناز، وزارتِ ثقافت و ورثہ کے سیکرٹری اسد رحمان گیلانی اور پاکستان قومی کونسل برائے فنونِ لطیفہ کے ڈائریکٹر جنرل ایوب جمالی سمیت سفارتی، سرکاری اور فنی حلقوں کے نمائندے شریک ہوئے۔ تقریب میں منتظمین اور کیفے کی جانب سے مختصر کلمات کے بعد نمائش کا رہنمائی دورہ کرایا گیا جس میں طلبہ اور محققین نے خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا۔سیڈرک گربے نے اپنی تصویروں میں انسانی حقوق، یادیں اور انسانی کیفیت کے پیچیدہ پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔ ان کے طویل دورانیے کے بصری بیانیے نے کشمیری روزمرہ زندگی، کمیونٹی کی یادداشتوں اور سماجی تناؤ کو منقسم مگر مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ اس مجموعے میں پیش کی گئی تصاویر کے ذریعے نمائش دیکھنے والوں کو کشمیر کی تاریخی دشواریوں اور عام انسان کی کہانیوں سے متعارف کرایا جاتا ہے، جو کہ کشمیر کی تصاویر کے مرکزی موضوع کو واضح کرتی ہیں۔تصویری نمائش کے ساتھ جاری کتاب میں مصنف کی پچھلی بین الاقوامی کارکردگی اور تصویری دستاویزات کی بنیاد پر تیار شدہ مواد شامل ہے، جس نے انہیں عالمی سطح پر تسلیم شدہ فوٹو جرنلزم کے اعزازات اور بین الاقوامی نمائشوں میں مقام دلایا ہے۔ ان کی تصاویر متعدد عالمی میوزیموں اور مجموعوں کا حصہ بھی رہ چکی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بصری کہانی گوئی نے کس طرح بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل کی ہے۔پاکستان فوٹو فیسٹیول کے بانی شاہ زمان بلوچ نے بتایا کہ یہ نمائش مقامی اور بین الاقوامی سطح پر بصری ثقافت کے تبادلے کا موقع فراہم کرتی ہے اور نوجوان فوٹوگرافروں کے لیے فکری رہنمائی کا سبب بنے گی۔ نمائش کا مقصد نہ صرف تصویری دستاویزات کو عوام تک پہنچانا ہے بلکہ مختلف طبقوں میں مکالمے اور فکری اشتراک کو فروغ دینا بھی ہے، جس میں کشمیر کی تصاویر اہم رول ادا کرتی ہیں۔نمائش عوام کے لیے کھلی ہے اور اسے پاکستانی قومی کونسل برائے فنونِ لطیفہ میں ۲۸ جنوری تک روزانہ صبح ۱۰ بجے سے شام ۴ بجے تک دیکھا جا سکتا ہے۔ شرکاء اور عام ناظرین اس موقع پر تصویروں کے پس منظر اور کتابی مواد کے بارے میں رہنماؤں سے معلومات حاصل کر سکتے ہیں، اور نوجوان فوٹوگرافرز کے لیے ورکشاپ اور گفتگو کے مواقع بھی متوقع ہیں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے