امریکی مصنف جان کیزر نے اسلام آباد میں ادارہ برائے علاقائی مطالعات کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ادارے کے محققین اور علماء سے ملاقات کی۔ ملاقات میں انہوں نے اپنے فکری سفر اور تحقیقی کاموں کے حوالے سے گفتگو کی اور اخلاقی بہادری، اصولی قیادت اور بین المذاہب ہم آہنگی کے موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال پیش کیا۔جان کیزر نے اپنے مطالعے کی روشنی میں امیر عبدالقادر کے کردار کو بطور نمونہ بیان کیا اور بتایا کہ مشکل دور میں انسانیت، روحانیت اور اصولی قیادت کے اقدار کس طرح سامنے آتے ہیں۔ ان کے بقول ایسی مثالیں نہ صرف تاریخی تناظر میں اہم ہیں بلکہ موجودہ دور میں بھی غور و فکر اور پُرامنی تعلقات کے فروغ کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ادارہ کے صدر سفیر جوہر سلیم نے مہمان کا خیرمقدم کیا اور جان کیزر کی علمی خدمات اور بین المذہب مباحث میں کوششوں کو سراہا۔ سفیر جوہر سلیم نے زور دیا کہ مشترکہ اخلاقی قدریں اجتہادی محافل اور علمی تبادلے کے ذریعے عالمی ہم آہنگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔مباحثے کے دوران شرکا نے مذہبی رواداری، مسلم معاشروں میں اخلاقی روایات اور تہذیبی پل بنانے کے طریقوں پر سوالات کیے۔ جان کیزر نے روایتی اور سائنسی تحقیق کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تعصب کو چیلنج کرنے اور اسلام و مغرب کے بارے میں متوازن فہم پیدا کرنے کے لیے کتابت اور مکالمہ ضروری ہیں۔بحث میں ادارے کے محققین نے علاقائی سلامتی، اخلاقی قیادت اور تعلیمی تعاون کے امکانات پر روشنی ڈالی۔ شرکا نے علمی تعاون، تحقیقی منصوبوں اور مشرق و مغرب کے درمیان فکری رابطوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔دورے کے اختتام پر مشترکہ رضامندی ظاہر کی گئی کہ آئندہ بھی اس نوعیت کے مکالمے جاری رہیں گے اور اخلاقی قیادت، بین المذاہب ہم آہنگی اور علاقائی استحکام کے موضوعات پر تحقیقی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ جان کیزر نے بھی ایسے علمی اور ثقافتی تبادلوں کی اہمیت پر زور دیا اور سراہا کہ ادارہ برائے علاقائی مطالعات نے اس مقصد کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
